Arundhati Roy, Parinday Aur Nana Ji
ارن دھتی رائے، پرندے اور ناناجی
نانا جی فجر کے بعد اپنے گھر کے باغیچے میں نیم کے درخت کے نیچے بیٹھے گزشتہ روز کی بچی ہوئی روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے اُنھیں چڑیوں کو ڈالاکرتے تھے۔ صبح سویرے جب ابھی گھاس پر اوس اور پھولوں کی پتیوں پر شبنم کے قطرے سورج کی سنہری کرنوں میں جگ مگا رہے ہوتے تو لوئی اوڑھے بید کی کرسی پر بیٹھے نانا جی آفتابی شعاؤں میں یوں شانت بیٹھے ہوتے کہ اُن پر گیان میں بیٹھے مہاتما بُدھ کا گمان ہوتا تھا۔ اپنے بچپن میں اُن ہی کے گھر میں اُسی نیم کے پیڑ کے نیچے سے چُن کرمیں نے پہلی مرتبہ نیم کا پھل نمبولی کھایا تھا، نسبتاً بڑی گُٹھلی اور کم گُودے کا چھوٹا سا میوہ۔ نانا جی کا برسوں، دہائیوں تک یہی معمول رہا۔ وہ پرندوں کو دانا دُنکا، روٹی ڈالتے رہے اور پرندے ان کے گرد اکٹھے ہوتے رہے۔ جب نانا جی فوت ہوئے توان کی وفات کے چند برس بعد، جب جی سنبھل گیا تھا اور ان کے گزر جانے کا یقین ہونے لگاتھا، میں نے "فنون" میں ان پر ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان "چڑیاں اُداس ہیں" تھا جس کی اختتامی سطور میں ذکر تھا کہ اُن جیسے درویش منش بے نیاز انسان کے رخصت ہونے پر ہم تو دکھی اور اداس تھے ہی مگر یقیناََ وہ تمام چڑیاں بھی اُداس تھیں جوبرس ہابرس سے سرگی ویلے، اُن کے گرد دانا دُنکا، روٹی چُوری چُننے اکٹھی ہوا کرتی تھیں۔
جب میں نے ارن دھتی رائے کے ناول "دا منسٹری آف اٹ موسٹ ہیپی نیس" (انتہائے مسرت کی وزارت) کی ابتدائی سطریں پڑھیں تو مجھے اپنا بچپن اور نانا جی کی چڑیاں اور پرندے یاد آگئے۔ ارن دھتی کے ناول کی غالباً ابتدائی سطروں میں ایک سوال پوچھا گیا تھا کہ پرندے مرنے کے لیے کہاں جاتے ہیں؟ یعنی جب پرندوں کو قدرتی طور پر موت آتی ہے تو وہ کدھر کا رخ کرتے ہیں۔ اِس سوال کے پیچھے صدیوں پرانی روح کو چھوتی حیرت ہے کہ جب ہم اپنے اِردگرد بے شمار پرندے اُڑتے، ہوا میں تیرتے دیکھتے ہیں تو جب وہ مرجاتے ہیں تو ہمیں ان کے بے جان بدن کیوں کر اِدھراُدھر بکھرے نظر نہیں آتے۔
اپنے بچپن میں ایک مرتبہ میں نے معصومانہ حیرت سے نانا جی سے سوال کیا تھا کہ جب بڑے پرندے مرجاتے ہیں تواُن کے ننھے بچوں کا خیال کون رکھتا ہے تو اُنھوں نے تسبیح کرتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا تھا کہ بڑے پرندے........
