Darya, Haar Aur Insan
یہ کہانی نہیں، یہ ہمارے معاشرے کا ایک خاموش کالم ہے۔ ایسا کالم جو روز ہمارے اردگرد لکھا جاتا ہے، مگر اخبار کے صفحے تک نہیں پہنچ پاتا۔ وہ شخص زندگی سے بھاگ نہیں رہا تھا، وہ زندگی کے بوجھ سے تھک چکا تھا۔ بھاگنے والے شور مچاتے ہیں، تھک جانے والے خاموش ہو جاتے ہیں۔ اسی خاموشی میں وہ شہر سے دور، دریا کے کنارے آ بیٹھا۔
نہ کسی پر الزام، نہ حالات سے شکوہ۔ اس نے اپنی ہار کو اپنی ہی کوتاہی مان لیا تھا۔ ہمارے ہاں یہی سب سے خطرناک موڑ ہوتا ہے، جب انسان ہر غلطی اپنے نام لکھ لیتا ہے اور دنیا کو بری الذمہ قرار دے دیتا ہے۔
درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر اس نے سگریٹ جلائی۔ دھواں اوپر اٹھتا رہا، جیسے کوئی بے........
