Sindh Taas Muahida Aur Bharti Azaaim (2)
سندھ طاس معاھدہ اور بھارتی عزائم (2)
دریائے چناب شوالک سلسلے میں بیاس اور راوی کے عقب میں ہمالے اور پیرپنجال کے سلسلے میں بلندی پر متوازی بہتا ہے۔ ستلج ہمالیہ پار تبت سے آتا ہے، یہ راوی بیاس دونوں سے بڑا بھی ہے اور گنگا جمنی میدان کے ساتھ انڈس بیسن کی حدبندی بھی کرتا ہے، اسلئے اس کی اھمیت بڑھ جاتی ہے۔ بھارت نے جب تقسیم ہند کے بعد مشرقی دریاؤں کا پانی ہتھیایا تو مال غنیمت کے طور پر ملے اضافی پانی کا واحد فائدہ مشرقی پنجاب کو ہی ہوسکتا تھا۔ لیکن ہندو لالے نے پنجاب کے تین ٹکڑے کئے۔ تہائی رقبہ، ساری بجلی، سٹوریج اور بہاؤ کا کنٹرول نئے صوبے ہماچل پردیش کو مل گیا، آدھے سے ذیادہ پانی راجھستان کو مل گیا، تہائی رقبہ ہریانہ لے گیا اور سرداروں کو ملا جھنجھنا۔ انہیں واردات کی سمجھ اس وقت آئی جب بچے کھچے پانی میں سے بھی آدھے سے ذیادہ ہریانے نے مانگ لیا، پھر بارہ تو بجنے ہی تھے، سو بج گئے۔
دہلی سرکار........
