menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mubadiyat e Tawanai (1)

19 0
30.10.2026

بجلی پانی پر سیریز انشااللہ جاری رہے گی، اردو میں ٹیکنیکل معاملات کوسمجھنا نسبتاً آسان ہے، لیکن ضرورت محسوس ہوئی کہ ہموطنوں کیلئے ہلکے پھلکے انداز میں ایک متوازی سیریز میں اسی موضوع سے متعلق بنیادی اصول، تصورات اور تعریفات بھی مرتب کرلیں۔ رائج انجنئرنگ عموماً انگریزی میں ہوتی ہے اور ضروری تفصیلات مختلف کتب میں بکھری ہوتی ہیں۔ کوشش ہوگی کہ اس سیریز کو پڑھ کر پانی بجلی سے متعلقہ ٹیکنیکل معاملات کو سمجھنا اتنا آسان ہو جائے کہ ہر میٹرک پاس سمجھ سکے۔ عمر اور تجربے کی بھی کوئی قید نہیں، کوئی سوالات ہوں توساتھ ساتھ کمننٹس میں دیکھ لیں گے۔

تو پہلی تحریر سے بسم اللہ کرتے ہیں۔

انرجی یعنی توانائی: کوئی بھی کام کرنے کی سکت کو انرجی کہتے ہیں۔ خود کام کی تعریف یہ ہے کہ کسی چیز کو اسکی جگہ سے ہلا دیا جائے، تو ان دونوں تعریفات کو ملاکر سمجھ لیں کہ ہر چھوٹی بڑی حرکت انرجی یا توانائی سے ہی ممکن ہوتی ہے۔

مادی دنیا بلکہ معلوم کائنات میں ہر جسم، نور اور حرکت حقیقت میں انرجی ہے۔ اس بات کو البرٹ آئن سٹائین نے دریافت کیا تھا اور اسکی بڑی وجہ شہرت بھی یہی ہے۔ اقبال نے اس بارے میں لکھا۔۔

حقیقت ایک ہے ہر شئے کی، خاکی ہو کہ نوری ہو

لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرّے کا دل چیریں

ظاہر ہے انہوں نے بس آئن سٹائن کے نظریے کو شعر میں ڈھالا تاکہ قوم کو آسانی سے یاد ہوجائے، اسلئے ذکر مناسب سمجھا۔

انرجی مختلف شکلوں میں ملتی ہے، شکلیں بدل سکتی ہے، اسکی سب سے عام فہم شکلیں روشنی اور حرارت ہیں۔ سردی اور اندھیرا بذات خود کچھ نہیں بلکہ حرارت اور روشنی کےغیاب کا نام ہے۔ جیسے لوڈ شیڈنگ بھی بس بجلی نہ ہونے کا نام ہے۔ اسکے بعد حرکت کی توانائی (مثلا لڑھکتا پتھر، بہتا پانی وغیرہ)، آگ، بجلی وغیرہ کی باری آتی ہے۔ پوٹینشل انرجی عموماً زمین کی کشش ثقل کو استعمال کیلئے سٹور کرنے کا نام ہے۔ ایٹمی یا نیوکلئیر توانائی کافی بعد کی دریافت ہے لیکن اس نے سمجھایا کہ مادہ خود بھی توانائی کی ٹھوس شکل ہی ہے۔ تو اتنا سمجھ لیں کہ سب کچھ توانائی ہی ہے۔ آئی کہاں سے، اس پر لوگ بحثیں جھگڑے کرتے ہیں، ہم نے بجلی ٹھیک کرنی ہے تو آم کھائیں، پیڑ پھرکبھی گن لیں گے۔

مادہ، قوت، حرکت اور کشش ثقل

ایک جسم لیں، مثلاً گیند، اس کا حجم (والیم)، وزن (ویٹ)، کمیت (ماس)، جمود (انرشیا) اور کثافت (ڈینسٹی) ہوگی۔ ان خواص کو ناپنے کے لیے بنیادی یونٹس سمجھنے ضروری ہیں۔ آجکل میٹرک سسٹم چلتا ہے لیکن آپ دقت کریں تو جو چاہیں استعمال کرسکتے ہیں۔ لمبائی، کمیت اور وقت کا........

© Daily Urdu (Blogs)