menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

14 August: Agar Mere Ghar Mein Daane Hote

50 75
14.08.2026

14 اگست، اگر میرے گھر میں دانے ہوتے

تیرہ اگست 2004 کا دن تھا، جب میں نے جرمنی میں قدم رکھا تھا۔ غریبی چہرے ٹپکتی تھی، یوں لگتا تھا، جیسے کسی نے خون نچوڑ لیا ہو، ہڈیوں کو بس جلد نے ڈھانپ رکھا تھا۔ چھوٹی عمر میں ہی گھر سے نکل آئے تھے، تب خیالات بہت مختلف تھے۔ یہی تھا کہ کچھ عرصہ جرمنی میں گزارنا ہے، تعلیم حاصل کرنی ہے، اپنے مالی حالات درست کرنا ہیں، واپس بہن بھائیوں اور ماں باپ کے پاس چلے جانا ہے۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا اور میں آج تقریباََ 21 برس بعد بھی میں واپس نہیں جا سکا۔ خیر! اب تو واپس جانے کا ارادہ بھی نہیں ہے، یہی خواہش ہے کہ جہاں زندگی کی شام ہو جائے، وہیں زمین کے حوالے کر دیا جائے۔

جس سر زمین پر آپ پیدا ہوتے ہیں، وہاں کی مٹی اور ریت آپ کی ہڈیوں میں پیوست ہوتی ہے۔ آپ چاہتے ہوئے بھی اس مٹی کو خود سے جدا نہیں کر سکتے۔ شاید مٹی، ان عادات کا نام ہے، جو آپ بچپن سے ہی ساتھ لے آتے ہیں، ان سوچوں کا نام ہے، جو آج بھی آپ کی انگلی پکڑے گاؤں کی گلیوں میں لے جاتی ہیں۔ کھانوں کے چکھنے اور پسند کرنے کے ان ذائقوں کا نام ہے، جو ماں کی گود میں ہی آپ سے جڑ جاتے ہیں اور پھر زندگی کی آخری شام تک، یہ مٹی، یہ ریت، یہ ذائقے، یہ سوچ اور یادیں آپ کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

14 اگست کو جب میرے گھر........

© Daily Urdu (Blogs)