menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tareekh, Shanakht Aur Mazahmat Ka Ghair Mamooli Baab

27 0
08.07.2026

تاریخ، شناخت اور مزاحمت کا ایک غیر معمولی باب

تاریخ کبھی محض تاریخ نہیں ہوتی۔ بعض اوقات وہ قوموں کی شناخت، ان کے مستقبل اور ان کے اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتی ہے۔ ریاست جموں و کشمیر کی داستان بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے جس کے مختلف پہلو آج تک بحث و تحقیق کا موضوع ہیں۔ ان ہی سوالات میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ آخر "آزاد کشمیر" کو "آزاد" کیوں کہا جاتا ہے؟ کیا یہ نام صرف ایک سیاسی اصطلاح ہے یا اس کے پیچھے ایک طویل جدوجہد، قربانیوں اور عوامی مزاحمت کی کہانی پوشیدہ ہے؟

اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں 1947 سے بھی ایک صدی پہلے جانا ہوگا۔ 1846ء میں پہلی اینگلو سکھ جنگ کے بعد برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور راجہ گلاب سنگھ کے درمیان معاہدۂ امرتسر طے پایا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ایک وسیع و عریض خطہ، جس میں جموں، کشمیر، پونچھ، بھمبر، میرپور، گلگت بلتستان اور لداخ شامل تھے، گلاب سنگھ کے زیرِ اقتدار آگیا۔ یوں ایک ایسی ریاست وجود میں آئی جس میں زبان، نسل، ثقافت، جغرافیہ اور رہن سہن کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف کئی معاشرے ایک ہی سیاسی نظام کے تحت جمع کر دیے گئے۔

اگرچہ یہ ریاست سیاسی طور پر ایک اکائی تھی، لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس کے مختلف خطوں کی اپنی الگ شناخت تھی۔ وادیٔ کشمیر کے لوگوں کی زبان، تہذیب اور سیاسی سوچ پونچھ، میرپور اور بھمبر کے عوام سے مختلف تھی۔ اسی طرح گلگت بلتستان اور لداخ کے اپنے تاریخی اور ثقافتی پس منظر تھے۔ یہی تنوع بعد میں سیاسی اختلافات کی بنیاد بھی بنا۔

ڈوگرہ دورِ حکومت میں........

© Daily Urdu (Blogs)