menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dimagh Aik Muamma

23 0
15.05.2026

دماغ کیا ہے؟ کسی کا یہ سوال کرنا بھی دانا ہونے کا ثبوت دے سکتا ہے۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور طویل موضوع ہے۔ دماغ نہ صرف ایک آرگن ہے بلکہ ایک پوری کائنات ہے۔ اس کا حجم، اس کی صلاحیتوں سے بہت کم ہے۔ بظاہر (1400-1500g) کا چکنائی اور پانی سے بھرپور آرگن، کن عجائبات سے لیس ہے۔ اس کا اندازہ لگانا انتہائی کٹھن کام معلوم ہوتا ہے۔

دماغ کے مقابلے میں انسان کا دنیا میں آنا تو کافی نزدیکی معاملہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دماغ جیسی چیز پہلی مرتبہ ایک organism Cardiodictyon catenulum کو ملی اور یہ بات ماضی قریب کی نہیں بلکہ 525 ملین سال پہلے کی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ عجائبات سے بھرپور نعمت کتنے عرصے سے اپنے عجائبات دکھا رہی ہے۔

یہاں ہم دماغ کی 525 ملین سالہ تاریخ پر تو تفصیلی تبصرہ نہیں کر سکتے، مگر دماغ کے انسان پر اور انسان کے دماغ پر حیران کُن اثرات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

انسان کا چلنا پھرنا، کھانا پینا، سونا جاگنا، ہاتھ پاؤں ہلانا، سننا، بولنا، چکھنا اور محسوس کرنا، یہ سب دماغ ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ ان کاموں میں اگر ذرا بھر بھی خرابی پیدا ہو جائے تو انسان معمول کی زندگی گزارنے سے محروم ہو سکتا ہے اور دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ سب بنیادی ضروریات ہیں، جن سے ایک عام انسانی زندگی مکمل دکھائی دیتی ہے۔

سوچنے، سمجھنے اور زندگی گزارنے کے لیے دماغ کا تربیت یافتہ ہونا بھی ضروری ہے۔ کوئی بچہ ماں کے پیٹ سے بولنا یا چلنا سیکھ کر نہیں آتا۔ ان تمام چیزوں کو سیکھنے کے لیے ایک مناسب ماحول درکار ہوتا ہے، جو عموماً والدین اور معاشرہ فراہم کرتے ہیں۔ بیٹھنا، چلنا، بھوک لگنے پر خوراک طلب کرنا، زبان........

© Daily Urdu (Blogs)