Getup Se Maar Khane Wala
گیٹ اپ سے مار کھانے والا
میاں محمد نواز شریف کے بعد ملک کا دوسرا بڑا سیاستدان مولانا فضل الرحمٰن ہے۔ یہ دونوں لوگ دائیں بازو کی سیاست سے علاقہ رکھتے ہیں۔ اِن دونوں کا اپنا اپنا لیگیسی ووٹ بینک ہے۔ دنیا اِدھر کی اُدھر ہوجائے، یہ ووٹ بینک اپنی جگہ قائم ہے۔ پاکستانی عوام کی جس سیاسی اکثریت کو جنرل محمد ضیاءالحق نے "خاموش اکثریت" کہا تھا، وہ بیشتر میاں صاحب کے ساتھ ہے۔ کچھ جگہ کی "ناخاموش" عوام کا معتدبہٖ حصہ، البتہ، مولانا کے ساتھ ہے۔ یہ ملکی سیاسی ایکومن اور ووٹ بینک پر میرا طالبعلمانہ تجزیاتی مطالعہ ہے۔
میاں صاحب کی طرح مولانا بھی ایک انتہائی بیدار مغز سیاستدان ہیں اور سیاسی معاملات میں اِن دونوں کی اپروچ سیکولر ہوتی ہے۔ پاکستان کے تمام سیاستدانوں کی طرح اِن دونوں کو بھی اچھی طرح سے علم ہے کہ اقتدار کہاں سے ملتا ہے چنانچہ یہ دونوں اقتدارگاہ سے معاملات ہمیشہ درست رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ باقی سیاستدانوں کی طرح عالمی اسٹیبلشمنٹ سے بھی اِن دونوں کے مناسب روابط ہیں۔ ایک وقت آیا تھا کہ مولانا نے مذاق مذاق میں عالمی چودھری کو وزیرِاعظم کے لیے مناسب امیدوار کے طور پر اپنا نام پیش کر دیا تھا۔ اِس پر میاں نواز شریف کے روایتی حریف کو بجا طور پر سخت تکلیف ہوئی۔ اُس موقع پر عطاءالحق قاسمی نے لکھا تھا کہ مولانا وزیرِاعظمی کے لیے........
