menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Wajoodiat

28 0
11.07.2026

زیست خود اپنی رضا، اپنی ہی تعزیر وفا اس کا ہر لمحہ گریزاں ہے خود اپنی تقدیر

وجودیت کو یورپ کی فکری تاریخ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد نیچرلزم اور عینیت پسندی کے خلاف شہرت نصیب ہوئی۔ وجودیت انسانی وجود کی اتھاہ گہرائیوں میں پہنچنے کی ایک دلیرانہ کوشش ہے۔ اس کا تعلق "ہے" کے مقابلے میں زیادہ تر "میں ہوں" سے ہے۔ وجودیت کے تانے بانے قدیم یونانی فلسفے "خود کو پہچانو" سے ملتے ہیں۔ وجودیت ایک فلسفہ ہے اور فلسفہ تعقل کے ذریعے زندگی کو سمجھنے کی کوشش کا نام ہے۔ عموماََ وجودیت کی دو اقسام ہیں: دینی وجودیت اور لادینی وجودیت۔ اول الذکر کا پیشوا کرکیگارڈ ہے اور ثانی الذکر کا پیشوا ہیڈیگر ہے۔ اول الذکر خدا کے وجود کو تسلیم کرتا ہے، جب کہ ثانی الذکر نہیں کرتا۔ وجودیت میں مرکزی حیثیت زندہ فرد کے وجود کو حاصل ہے۔ اس کے برعکس، نیچرلزم اور عینیت پسندی میں فرد کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ وجودیوں کے نزدیک وجود جوہر پر مقدم ہے، انسان آزاد ہے اور اپنے جملہ اعمال کا خود ذمہ دار........

© Daily Urdu (Blogs)