Main Ne Khuda Ko Dekha
زیر نظر تحریر مصنفہ میری مرے بوسروک کی انگریزی کتاب "آئی سا گاڈ" کا اردو خلاصہ ہے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بہت پہلے پرفیکٹ نامی ایک دور افتادہ خوب صورت جزیرہ ہوا کرتا تھا، جو کسی جنت سے کم نہ تھا۔ یہاں کے باشندوں کی آپس میں محبت دیدنی اور مثالی تھی۔ لالچ، بغض، عناد اور نفرتوں سے ان کا دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔ اس جزیرے میں پولیس، وکیل، جنگ، جرم اور تشدد کا نام و نشان تک نہ تھا۔ خواتین، جانوروں اور پرندوں کی بڑی قدر ہوا کرتی تھی اور وہ صرف اپنی بقا کے لیے شکار کیا کرتے تھے۔ بھوک مٹانے کے بعد وہ خوراک کی پوجا کرتے اور شکر ادا کرتے۔
ان میں زمین مشترک اور مقدس ہوا کرتی تھی۔ وہ زمین کا اور زمین ان کا خیال رکھتی تھی۔ وہ کھیتی باڑی اور مال مویشی کا فن بھی جانتے تھے۔ بچوں کو خدا کا عطیہ سمجھ کر ان پر شفقت کی جاتی تھی اور وہ بھی بڑوں کی عزت کیا کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے پر مہربان تھے اور ایک دوسرے کو سلام اس لیے کرتے تھے کہ ان کے اندر خدا بستا تھا اور خدا سب کا سانجھا تھا۔
وہ سردیوں میں جھونپڑیوں میں اور گرمیوں میں نیلے آسمان تلے سوجایا کرتے تھے۔ وہ ہر لمحہ بادل، رم جھم، بارش، سبزہ، سورج، چاند، ستاروں، جانوروں کی آوازوں، پرندوں کی چوں چوں اور قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ یہ سب کچھ خدا نے بنایا ہے اور جو کچھ خدا نے بنایا ہے وہ اچھا اور مفید........
