Aurat Ka Khamosh Qatal e Aam
عورت کا خاموش قتل عام
پاکستان میں صنفی تشدد اور نام نہاد غیرت کے نام پر قتل عام ایک ایسا زخم ہے جو ہماری اجتماعی زندگی کے جسم پر ہر روز نئے نشان چھوڑ رہا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں، یہ ان گنت خاموش چہروں کی کہانی ہے جنہیں ہم نے اپنے گھروں، اپنے محلوں اور اپنے شہروں میں دفن کر دیا۔ ایک ایسی عورت کا تصور کریں جو اپنے ہی گھر میں محفوظ نہ ہو، جسے باہر کے درندوں کا نہیں بلکہ اندر کے اپنوں کا خوف ہو۔ ہمارے ہاں اکثر یہی ہوتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سال 2026 کے پہلے چھ مہینوں میں ملک بھر میں صنفی تشدد کے 3172 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 644 قتل، 514 تشدد کے واقعات، 462 اغوا، 280 زیادتی اور غیرت کے نام پر 132 قتل شامل ہیں۔ یہ محض ایک رپورٹ کا خلاصہ ہے، ورنہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات کی رپورٹنگ ہی نہیں ہوتی۔
صرف پنجاب کی بات کریں تو پہلے چھ مہینوں میں خواتین کے خلاف 20,114 جرائم رجسٹر ہوئے، جن میں 4,446 زیادتی کے واقعات اور 940 گینگ ریپ کے کیسز شامل ہیں۔ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو پولیس کے ریکارڈ کا حصہ بنے، مگر جب بات غیرت کے نام پر قتل کی ہو تو پنجاب میں 2021 سے 2026 تک 969 واقعات ریکارڈ ہوئے جن میں 1027 خواتین اور 225 مرد متاثر ہوئے اور انصاف کا حال یہ ہے کہ 943 مقدمات چالان ہونے کے باوجود صرف 192 ملزمان کو سزا ہوئی جبکہ 631 بری ہو گئے۔ یہ ایک ایسی عدالتی ناکامی ہے جس کی مثال پاکستان سے باہر شاید ہی ملے۔ اسی طرح ملک بھر میں صنفی تشدد کے 91 ہزار واقعات سامنے آئے جن میں سے صرف 38 فیصد مقدمات نمٹائے جا سکے جبکہ 56 ہزار 100 سے زائد کیسز تاحال زیر التوا ہیں۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمارا قانونی نظام ایک ایسی کمزور عمارت کی مانند ہے جس کی بنیادیں ہی کھوکھلی ہیں۔ قتل تو ہو جاتا ہے مگر انصاف کا حصول ایک ایسا خواب بن جاتا ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔........
