Mohsin Se Dr. Mohsin Khalid Mohsin Tak
محسن سے ڈاکٹر محسن خالد محسن ؔ تک
محسن خالد محسن ؔسے میری ملاقات غالباً 2015 کے آخری مہینے یعنی دسمبر میں گجرات میں این سی بی اے سب کیمپس گجرات میں ہوئی تھی۔ میں ڈاکٹر انجم یوسف کے ساتھ گجرات کیمپس میں ایم فل اُردو کے لیے جایا کرتی تھی۔ ڈاکٹر ساجد محمود ڈار کے ہمراہ ایک لمبے بالوں والا اُداس سا لڑکا ہمارے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔ ہم فیلوز چائے پینے میں مصروف رہے۔ اس لڑکے کی طرف کسی نے توجہ نہ کی۔ ڈاکٹر انجم یوسف نے محسن کا تعارف ہم سے یوں کروایا کہ یہ ساجد محمود ڈار کے اچھے دوست ہیں اور ہمارے کلاس فیلو ہیں۔ انھوں نے ایم فل اُردو میں داخلہ لیا ہے اور اب ڈاکٹر اشفاق حسین بخاری کی نگرانی میں ایم فل کا مقالہ لکھ چکے ہیں اور یونی ورسٹی میں جمع کروانا ہے۔
ڈاکٹر اشفاق حسین بخاری کے سینکڑوں شاگرد تھے جو ایک یونی ورسٹی سے دوسری یونی ورسٹی مائیگریشن کروا کے آیا جایا کرتے تھے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جہاں انھیں مشکل پیش آتی تھی، ڈاکٹر صاحب کہا کرتے تھے کہ میر ےپاس یہاں آجاؤ میں تمہیں نکلوا دوں گا اور ہوتا بھی ایسے ہی تھا کہ خوشامد و طلب و جبر کے مارے شاگرد ڈاکٹر صاحب کی راہنمائی میں دن رات ایک کرکے مقالہ لکھتے اور جمع کروا کے واویا دے کر ڈگری لے جاتے۔
ہم سب بھی اسی اُمید پر یہاں اتفاقاً جمع ہو گئے تھے کہ ڈاکٹر صاحب ہمیں نکلوا دیں گے۔ ان دنوں این ٹی ایس کے ٹیسٹ کا بڑا مسئلہ ہوا کرتا تھا یعنی یہ ٹیسٹ اتنا مشکل تھا کہ مشکل سے کوئی آرٹس کا طالب علم پاس کر پاتا۔ سینکڑوں طالب علم اپنا مقالہ یونی ورسٹی جمع کروا کے ٹیسٹ پاس نہ کرسکنے کی وجہ سے ڈگری سے محروم رہ گئے۔ ایچ ای سی نے یونی ورسٹیوں کو مقامی ٹیسٹ لینے کی اجازت دی تو ہم پہلی کوشش میں کامیاب ہو گئے کہ یونی ورسٹی نے اردو کے حصے کو پچاس فیصد کر دیا تھا اس لیے ہم نے پہلی کوشش میں یہ ٹیسٹ پاس کر لیا۔
محسن خالد محسن ان دنوں عجیب و غریب وضع قطع کا حامل لڑکا تھا۔ انتہائی خاموش اور سنجیدہ لڑکا یعنی اسے دیکھ کر کچھ کچھ محسوس ہوتا تھا جسے کوئی نام نہ دیا جاسکتا تھا۔ ڈاکٹر انجم یوسف نے چائے کی دعوت دی تو کہنے لگا کہ میں روزے سے ہوں۔ ہم نے حیران ہو کر کہا کہ تم روزے سے، لاہور سے گجرات کا فاصلہ اتنا ہے کہ نفلی روزہ نہ رکھنے کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ کہنے لگا میں نفلی روزہ نہیں رکھتا میں اپنے نفس پر جبر کرتا ہوں کہ یہ مجھے بھوک کی شدت سے نڈھال کرنے کی سازشیں کرتا رہتا ہے اور میں اس کے آگے زیر ہونے والا نہیں ہوں۔ ہم یہ منطقی فلسفہ سُن کر مزید حیران ہوئے۔ مجھے ذاتی طور پر محسوس ہوا کہ یہ بندہ عام نہیں ہے اس کے پاس ضرور کچھ ایسا ہے کہ جو کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ اس سے کچھ نہ کچھ مل سکتا ہے۔
محسن کو میں نے اپنا سرسری تعارف کروایا تو محسن نے کوئی خاص توجہ نہ دی، نیم مسکراہٹ چہرے پر بکھیرے ساجد محمود کے ساتھ کمرے سے باہر نکل آیا۔ اس کے بعد مہینوں محسن سے ملاقات نہ ہوئی۔ ڈاکٹر اشفاق حسین بخاری صاحب نے ہم سب کو بلا یا اور کہا کہ اپنے اپنے ڈینفس کی تیاری کر لیں۔ ڈاکٹر صاحب کی خوبی یہ تھی کہ سب کو برات میں شرکت والے دعوت ناموں کی طرح بلایا کرتے تھے اور ہم جوق در جوق پہنچ جایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر انجم یوسف کو دو ہزار دیا کرتے اور سب کے لیے کھانا آجایا کرتا تھا۔ ایک دن میں نے ڈاکٹر انجم سے پوچھا: بھائی! اتنے کم پیسوں میں بیس پچیس بندوں کا کھانا کیسے آتا ہے، تو وہ مسکرا دئیے اور کہنے لگے کہ بقایا پیسے میں اپنی جیب سے ڈالتا ہوں۔ میں حیران ہوئی کہ یہ بندہ کیسے سب مینج کرتا ہے۔ ڈاکٹر انجم کی دریا دلی اور فیاضی سب میں مشہور تھی اور یہ انسان اب بھی ایسا ہی ہے۔
محسن کے ساتھ دوسری ملاقات یوں ہوئی کہ میں اپنا لیپ ٹاپ ساتھ لائی تھی مگر وہ چل نہیں رہا تھا۔ میں نے انجم بھائی سے کہا کہ اسے دیکھیں تو وہ کسی اور کام میں مصروف ہوگئے۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے محسن سے کہا کہ آپ کو لیپ ٹاپ چلانا آتا ہے ذرا اسے دیکھیں یہ چل نہیں رہا۔ محسن نے کہا کہ جی میں دیکھتا ہوں، یہ کہ کر انھوں نے لیپ ٹاپ کو ایک نظر دیکھا، پتہ نہیں کیا کِیا کہ لیپ ٹاپ چلنے لگا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ اسے ٹھیک کروالیں اور یہ والے سوفٹ وئیر انسٹال کروالیں پھر یہ تنگ نہیں کرے گا۔ محسن نے مجھے کمپوز کرنا اور پرنٹ کرنا سکھایا اور یہ بھی کہا کہ اپنا پرنٹر خود خریدیں تاکہ پیسوں اور وقت کا ضیائع نہ ہو سکے۔ مجھے اس لڑکے کی باتیں دل میں گھر کرتی دکھائی دیں۔ میں نے کہا کہ میں جہاں رہتی ہوں وہاں ایسی سہولتیں میسر نہیں ہیں اور لاہور میں کوئی واقف نہیں کہ منگوا سکوں۔ محسن نے کہا کہ میں آپ کو پرنٹر لاہور سے بھیج دوں گا آپ مجھے پیسے بھجوا دیجیے گا۔ یہ لمحہ میرے بڑا حیران کُن تھا۔ میں پہلے ہچکچائی پھر تھوڑی شرمندہ ہوئی اور پھر کچھ سوچ کر کہا کہ آپ رہنے دیں میں یونہی گزارا کر لوں گی۔
محسن جب کمرے سے اُٹھ کر کسی کام سے باہر گیا تو میں نے ساجد ڈار سے پوچھا کہ یہ تمہارا دوست کیسا ہے۔ اُس نے کہا کہ میں اسے تین سال سے جانتا ہوں، اچھا لڑکا ہے۔ چائے بہت پیتا ہے، شاعری بھی کرتا ہے، عجیب و غریب خیالات رکھتا ہے، باتیں کرتا ہے تو سماں باندھ دیتا ہے لیکن ابھی کسی تلاش میں ہے، پتہ نہیں کیا چاہتا ہے، کبھی کبھی مجھے عجیب سا لگتا ہے، آج کل اس پر مذہب کا دورہ پڑا ہوا ہے، روح، نفس، موت، کسک، دُنیا، فلسفہ، تصوف، علم الدنی، حقیقت معرفت ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جو میرے اوپر سے گزر جاتے ہیں۔
میں نے ساجد سے کہا کہ یہ بندہ مجھے تھوڑا مختلف لگتا ہے یعنی اس کے ہاں علم کا ایک سمندر چھپا ہوا ہے یعنی یہ کہیں اور ہی اُٹھتا بیٹھتا ہے۔ ساجد نے کہا بالکل میں بھی اس کے بارے میں ایسے ہی خیالات رکھتا ہوں۔ ان دنوں ہم سبھی دوست اپنی اپنی زندگی میں انتہائی مصروف تھے اور روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے تھے۔ ابھی ہم ایم فل تھے اور کسے علم تھا کہ ہم ڈاکٹر بن جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو بہترین رزق سے نوازے گا۔
محسن نے کوئی ایک مہینہ بعد ہونے والی ملاقات میں مجھے کہا کہ میں آپ کا پرنٹر ساتھ لے آیا ہوں مجھے اتنے پیسے دے دیں اور ساتھ لے جائیں۔ میں نے کہا، آپ کا بہت شکریہ، آپ نے یہ تکلیف کی، کہنے لگا کہ یہ تو چلتا ہے، دوست اسی لیے ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے کی مدد کر سکیں اور پھر ہم ہر کسی کی مدد نہیں کرتے۔ یہ دل کی زبان ہے اور احساسات ہیں جو آواز دیتے ہیں اور انسان لبیک کہ دیتا ہے۔ محسن نے مجھے پرنٹر انسٹال کرنے اور پرنٹ کرنے کا سارا طریقہ سمجھایا اور میرے ساتھ گاڑی میں پرنٹر رکھوا دیا۔ یہ پرنٹر گھر آکر مجھ سے چلا نہیں کہ مجھ سے اتنا مشکل کام نہ ہوسکا۔ میں نے اس کا نمبر تو لیا ہی نہیں تھا۔ میں نے انجم بھائی سے کہا کہ مجھے محسن کا نمبر چاہیے مجھ سے پرنٹر نہیں چل رہا۔ انھوں نے مجھے نمبر........
