Mohsin Khalid Mohsin Ki Nazm Main Ghulam Nahi Hoon: Nisai Jaiza
محسن خالد محسن کی نظم "میں غلام نہیں ہوں":نسائی جائزہ
پاکستانی معاشرہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی حوالوں سے ایک پیچیدہ بیانیہ رکھتا ہے جس میں عورت کی حیثیت ہمیشہ ایک بحث طلب موضوع رہی ہے۔ عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے مقدس رشتوں میں عزت دی جاتی ہے مگر عملی سطح پر اس کے حقوق اکثر محدود اور مشروط نظر آتے ہیں۔ اسی تضاد کو جدید اُردو نظم میں نہایت شدت اور شعور کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
محسن خالد محسنؔ کی نظم "میں غلام نہیں ہوں" اسی نسائی شعور کی ایک توانا آواز ہے جو عورت کو محض ایک تابع وجود ماننے کے تصور کو رَد کرتی ہے۔ یہ نظم ان کے مجموعے "محبت معاہدہ نہیں" سے انتخاب کی گئی ہے۔
یہ نظم عورت کے داخلی کرب، اس کے شعوری ارتقا اور اس کی آزادی کی خواہش کا اظہاریہ ہے۔ شاعر نے ایک نسائی کردار کی آواز میں وہ تمام سوالات اُٹھائے ہیں جو صدیوں سے دبائے جاتے رہے۔ نظم کا آغاز ہی ایک واضح انکار سے ہوتا ہے۔
"تمہاری ہر بات مان لینا کوئی فریضہ نہیں"
یہ مصرعہ پدر سری نظام کے بنیادی اُصول یعنی عورت کی غیر مشروط اطاعت کو چیلنج کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مرد کے ہر حکم کو بلا چون و چرا تسلیم کرے۔ یہاں شاعر اس روایت کو مسترد کرتے ہوئے عورت کو ایک خودمختار وجود کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اسی طرح اس نظم میں آزادی کے تصور کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے
"میں آزاد پیدا ہوئی تھی اور آزادی
کوئی زیور نہیں جسے موقع دیکھ کر پہنا اور اُتار دیا جائے"
یہاں آزادی کو کسی عارضی شے کی بجائے ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر........
