menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya Aurat Tareef Ki Bhooki Hai?

32 0
30.04.2026

کیا عورت تعریف کی بھوکی ہے؟

عورت کے بارے میں یہ جملہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ وہ تعریف کی بھوکی ہوتی ہے۔ اگر کوئی اس کے حُسن کی تعریف کرے، اس کے لباس کو سراہے، اس کی آواز کو خوشبو سے تشبیہ دے یا اس کی موجودگی کو چاندنی رات کہہ دے تو وہ خوش ہو جاتی ہے۔ اس خیال کو صدیوں سے مردانہ سماج نے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے اور طنز کے طور پر بھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عورت صرف تعریف کی بھوکی ہے یا یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جو اس کے گرد جان بوجھ کر بُنا گیا تاکہ اسے جذباتی طور پر کمزور ثابت کیا جا سکے۔

عورت انسان ہے اور ہر انسان اپنی قدر چاہتا ہے۔ ہر دل یہ خواہش رکھتا ہے کہ اسے اہم سمجھا جائے، اس کے وجود کو محسوس کیا جائے اور اس کی موجودگی کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ تعریف دراصل صرف لفظ نہیں بلکہ توجہ کی علامت ہے۔ جب ایک عورت اپنی تعریف سُن کر خوش ہوتی ہے تو اکثر وہ حُسن کی نہیں اپنی موجودگی کی تصدیق سن رہی ہوتی ہے۔ اسے یہ احساس ملتا ہے کہ وہ دیکھی جا رہی ہے سُنی جا رہی ہے اور اس کی اہمیت ہے۔

اردو ادب میں عورت کے حُسن کو ہمیشہ ایک بڑے موضوع کے طور پر پیش کیا گیا۔ شاعروں نے اس کی زلف کو رات، آنکھ کو مے، لب کو گلاب اور چہرے کو چاند کہا۔ میرؔ نے محبوب کی گلی کو عبادت گاہ بنایا اور غالبؔ نے حُسن کے ایک اشارے پر فلسفہ کھڑا کر دیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ تعریف مرد نے........

© Daily Urdu (Blogs)