Kya Aurat Paise Ki Bhooki Hai?
کیا عورت پیسے کی بھوکی ہے؟
یہ جملہ مشرقی سماج میں اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ اب یہ محض ایک الزام نہیں رہا بلکہ ایک سماجی بیانیہ بن چکا ہے۔ جب بھی کوئی عورت بہتر زندگی کی خواہش کرے، اچھا گھر مانگے، معاشی تحفظ چاہے یا اپنے بچوں کے لیے آسودگی کا خواب دیکھے تو فوراً اس کے کردار کے گرد "لالچ" کا لفظ لپیٹ دیا جاتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہی خواہش اگر مرد کے اندر ہو تو اسے "ذمہ داری" اور "کامیابی کی امنگ" کہا جاتا ہے۔ عورت کے لیے وہی جذبہ اچانک حرص بن جاتا ہے۔
پاکستان میں عورت کو ہمیشہ قربانی کے استعارے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اسے سکھایا گیا کہ محبت روٹی سے بڑی چیز ہے، وفا زیور سے زیادہ قیمتی ہے، صبر ہر آسائش پر مقدم ہے۔ مگر کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ جو عورت عمر بھر دوسروں کے لیے جیتی ہے کیا اسے خود کبھی سکون کی خواہش نہیں ہوتی؟ کیا اسے اچھے کپڑے پہننے کا حق نہیں؟ کیا وہ اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل نہیں چاہتی؟ کیا وہ بیماری کے دنوں میں علاج اور بڑھاپے میں تحفظ کا خواب نہیں دیکھ سکتی؟
اصل مسئلہ عورت کی پیسے سے محبت نہیں بلکہ غربت کے خوف سے نفرت ہے۔ پاکستانی عورت نے محرومی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اس نے وہ مائیں دیکھی ہیں جو شوہر کے مرنے کے بعد رشتہ داروں کے دروازوں پر ذلیل ہوتی رہیں۔ اس نے وہ عورتیں دیکھی ہیں جو محبت کی شادی کے بعد کرائے کے کمروں میں اپنے خواب دفن کرتی رہیں۔ اس نے وہ بیویاں دیکھی ہیں........
