menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Shokat Siddiqui Ke Fiction Mein Juraim Ki Akkasi

13 0
previous day

شوکت صدیقی کے فکشن میں جرائم کی عکاسی

شوکت صدیقی نے اردو ادب میں ناول نگاری، افسانہ نگاری اور کالم نویسی کے ذریعے نام پیدا کیا۔ مارچ 1923ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ اپنی تعلیم لکھنؤ میں مکمل کی۔ بحیثیت مدیر عملی زندگی کا آغاز کیا۔ شوکت صدیقی 1950ء میں پاکستان آ گئے۔ شوکت صدیقی کی افسانہ نگاری کا آغاز 1940ء میں ہوا۔ بعد ازاں وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے۔ شوکت صدیقی نے افسانے، مضامین، کالم لکھنے کے علاوہ شاعری بھی کی لیکن ان کے ناولوں نے انھیں شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا۔ انھوں نے چار ناول لکھے، "خدا کی بستی"، "جانگلوس"، "کمین گاہ" اور "چار دیواری"۔ ان کے افسانوں کے مجموعے درج ذیل ناموں سے منظرعام پر آئے:

"تیسرا آدمی"، "اندھیرا"، "راتوں کا شہر" اور "کیمیا گر"۔

شوکت صدیقی کی تخلیقات میں خیر و شر کی قوتیں متصادم نظر آتی ہیں۔ انھوں نے اپنے مشہور ناولوں میں کچھ کردار ایسے تخلیق کیے ہیں جو ہمیں زندگی کے ایک اور پہلو سے روشناس کرواتے ہیں کہ معصوم افراد جرم کی دلدل میں کس طرح دھنستے چلے جاتے ہیں۔ وہ کیا محرکات ہیں؟ وہ کیا عوامل ہیں جو کسی بھی شخص کو جرم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

مارچ 1950ء میں پاکستان آنے کے بعد انھیں ایک ایسی زندگی گزارنی پڑی جس میں انھیں ایک کوارٹر میں جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ بھی وقت گزارنے کا موقع ملا۔ وہ اپنی کل کائنات ایک چارپائی پر تکیے کے سہارے بیٹھے افسانے لکھا کرتے۔ یہیں انھیں ان جرائم پیشہ افراد کے نفسیاتی مطالعے کا موقع ملا۔ بعد میں یہ ہی افراد ان کے افسانوں اور ناولوں کے کردار کے طور پر سامنے آئے۔ اس دور میں لکھا گیا افسانہ "تیسرا آدمی" اس دور کا ایک نمائندہ افسانہ ہے۔

شوکت صدیقی نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں ایسے جرائم پیشہ کردار پیش کیے جنھیں معاشرہ دھتکار چکا تھا۔ جنھیں انسان تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ انھوں نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں جرائم کو دو طرح سے........

© Daily Urdu (Blogs)