menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Edward Said: Istashraq Aur Ma Baad e Nau Abadiyati Fikr (2)

22 0
19.07.2026

ایڈورڈ سعید: استشراق اور مابعد نوآبادیاتی فکر (2)

رات کے آخری پہر ایک قدیم کتب خانے کی خاموش فضا میں جب گرد آلود مخطوطات کے اوراق بے اختیار الٹنے لگتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ خود اپنے گواہ طلب کر رہی ہو۔ صدیوں پرانے الفاظ سرگوشی کرتے ہیں کہ سلطنتیں صرف لشکروں سے قائم نہیں ہوتیں، ان کی بنیاد پہلے ذہنوں میں رکھی جاتی ہے، پھر نقشوں پر لکیر کھینچی جاتی ہے۔ انہی خاموش سرگوشیوں سے ایک ایسا سوال جنم لیتا ہے جس نے بیسویں صدی کے فکری منظرنامے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا: کیا علم حقیقت کی تلاش کا نام ہے، یا اقتدار کی تشکیل کا بھی ایک وسیلہ؟

اسی بنیادی سوال سے ایڈورڈ سعید کی فکری کاوش کا آغاز ہوتا ہے۔ ان کی فکری عظمت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے استشراق کو صرف ایک علمی روایت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے طاقت کے ایک ایسے منظم نظام کے طور پر سمجھا جس نے کئی صدیوں تک دنیا کے سیاسی، تہذیبی اور ثقافتی نقشے کو تشکیل دیا۔ ان کے نزدیک کسی بھی علمی روایت کا مطالعہ اس کے تاریخی، سیاسی اور معاشی سیاق سے الگ ہو کر نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ علم خلا میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ مخصوص طاقت کے ڈھانچوں، ریاستی مفادات، تہذیبی تصورات اور معاشرتی اداروں کے درمیان تشکیل پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استشراق کی تنقید دراصل علم کی تنقید بھی ہے اور اقتدار کی بھی۔

مغربی نشاۃِ ثانیہ کے بعد جب یورپ نے سائنسی ترقی، صنعتی انقلاب اور جدید قومی ریاست کے تصورات کو فروغ دیا تو اس کے ساتھ ہی اس کی سیاسی توسیع کا عمل بھی تیز ہوتا گیا۔ سمندری راستوں کی دریافت، تجارتی کمپنیوں کا قیام، عسکری طاقت کی مضبوطی اور سرمایہ دارانہ معیشت کے فروغ نے یورپ کو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ تک پہنچا دیا۔ لیکن کسی بھی قبضے کو صرف فوجی قوت کے ذریعے دیرپا نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ اس کے لیے ایک ایسا فکری جواز بھی درکار تھا جو استعمار کو ظلم نہیں بلکہ تہذیبی خدمت ثابت کرے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں استشراق نے ایک خاموش مگر نہایت مؤثر کردار ادا کیا۔

مستشرقین نے مشرقی معاشروں کا مطالعہ ضرور کیا، لیکن یہ مطالعہ ہمیشہ مساوی تعلق کی بنیاد پر نہیں تھا۔ مشرق کو ایک ایسے "موضوع" (Object) میں تبدیل کر دیا گیا جسے مغرب اپنی علمی نگاہ سے دیکھے، اس کی تعبیر کرے اور اس کی شناخت متعین کرے۔ اس عمل میں مشرق کی اپنی آواز، اپنی تعبیر اور اپنی داخلی فکری روایت کو ثانوی حیثیت دے دی گئی۔ گویا مشرق کو بولنے کے بجائے اس کے بارے میں بولا جانے لگا اور یہی نمائندگی کا بحران (Crisis of Representation) تھا جسے ایڈورڈ سعید نے پوری قوت کے ساتھ بے نقاب کیا۔

یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مغربی مستشرقین نے عربی سیکھی، فارسی پڑھی، اسلامی تاریخ لکھی اور مشرقی ادب پر تحقیق کی تو پھر ان کی علمی خدمات کو مشتبہ کیوں سمجھا جائے؟ سعید اس سوال کا نہایت متوازن جواب دیتے ہیں۔ وہ مستشرقین کی محنت، لسانی مہارت یا تحقیقی استعداد کا انکار نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ اس علمی نظام کا........

© Daily Urdu (Blogs)