Tehzeebi Bazgasht: Veeda Ahmed Ka Fanni Safar
تہذیبی بازگشت: ویِدا احمد کا فنی سفر
فن کی بصری زبان ہمیشہ سوچ اور مشاہدہ کے ساتھ کسی نہ کسی نسبت، وابستگی اور تعلق سے جڑی ہوتی ہے۔ فن کار کبھی بهی اپنی سرزمین، تہذیب اور یادداشت سے الگ ہو کر تخلیق نہیں کرسکتا۔ سرزمین اور تہذیب اس کے لاشعور میں سانس لیتے ہیں اور اس کے رنگوں، ساختوں اور موضوعات میں ڈھل کر منظر عام پر آتے ہیں۔ یہی رشتہ فن کو مخصوص شناخت میں تبدیل کرتا ہے۔ مایہ ناز مصورہ ویدا احمد کا فن وابستگی اور شناخت کے اسی تسلسل کا مظہر ہے۔ انہوں نے مغربی دنیا میں رہ کر کام کیا اور عالمی آرٹ حلقوں میں اپنی پہچان بنائی۔
ویڈا احمد نے ابتدائی تعلیم کانوینٹ اسکول لاھور سے حاصل کی۔ آپ کو بچپن ہی سے ڈرائنگ اور رنگوں سے خاص دلچسپی تھی۔ کالج کے زمانے میں یہ شوق باقاعدہ شعور میں ڈھلنے لگا اور انہوں نے آرٹ کو بھرپور انداز میں سیکھنے کی لیے پنجاب یونیورسٹی کے فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں دا خلہ لیا اور ایم۔ ایف۔ اے کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی، جہاں انہیں ڈرائنگ، کمپوزیشن اور آرٹ کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔
ویِدا کو فنِ اداکاری کا گہرا شوق تھا اور انہوں نے اپنی اداکاری کے ہنر کا بھی مظاہرہ کیا۔ انیس سو ستر کی دہائی میں پی ٹی وی کے پروگرام "ٹال مٹول" میں ویِدا صلاح الدین ایک نمایاں رکنِ کاسٹ تھیں۔
جب ویِدا نے فائن آرٹس کے شعبےمیں داخلہ لیا، تو "آل پاکستان طلبہ اداکاری مقابلے" میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس مقابلے میں جج سلیمہ ہاشمی تھیں۔ شعیب ہاشمی اور سلیمہ ہاشمی نے آپ کو"ٹال مٹول" میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ یہ ستر کی دہائی کے ابتدائی سال تھے۔
تاہم، آپ کو ٹیلی ویژن پر کام کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے اپنے والد کو بہت قائل کرنا پڑا۔ جب انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ صرف شعیب ہاشمی کے ساتھ ہی........
