Soch Ka Beej
"ہر برائی کا آغاز ہاتھوں سے نہیں، سوچ سے ہوتا ہے"۔ یہ ایک آفاقی اور نفسیاتی سچائی ہے۔ انسان اچانک مجرم یا ظالم نہیں بن جاتا۔ برائی کا سفر ہمیشہ انسان کے ذہن کے کسی تاریک گوشے سے شروع ہوتا ہے۔ کسی کا حق چھیننے سے پہلے ذہن میں "ذاتی فائدے" کا بیج انگڑائی لیتا ہے، کسی کے خلاف تشدد سے پہلے "نفرت کا تصور" جنم لیتا ہے اور کسی کو نیچا دکھانے سے پہلے "انتقام کی ہوس" پروان چڑھتی ہے۔ مادی عمل تو محض اس زہریلے بیج کا پھل ہے جسے انسان ایک مدت تک اپنے ذہن میں پالتا رہا ہو۔
جدید نفسیات اور نیوروسائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جب انسان اپنے ذاتی مفاد، تعصب یا ہوس کو اخلاقی اصولوں پر مقدم رکھتا ہے، تو دماغ کا جذباتی حصہ عقل پر حاوی ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں انسان اپنے غلط رویوں کو بھی درست ثابت کرنے کے لیے خود ساختہ جواز تراشنے لگتا ہے۔
انگریز مفکر جیمز ایلن نے اپنی کتاب "As a Man Thinketh" میں انسانی ذہن کو ایک باغ سے تشبیہ دی........
