menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Data Is New Gold

29 0
05.09.2026

پرانے زمانے میں اقوام کی طاقت اور خوشحالی کا اندازہ ان کے خزانے میں موجود سونے، چاندی اور جغرافیائی حدود سے لگایا جاتا تھا۔ جس کے پاس جتنے وسائل اور سونا ہوتا، وہ دنیا پر اتنی ہی حکمرانی کرتا تھا۔ مگر اکیسویں صدی کے اس جدید ترین digital دور میں طاقت کا محور اور ترقی کا انداز یکسر بدل چکا ہے۔ آج اگر دنیا کا سب سے قیمتی اثاثہ کسی چیز کو قرار دیا جائے تو وہ سونا یا تیل نہیں، بلکہ "ڈیٹا" (Data) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر کے معاشی و تکنیکی ماہرین متفقہ طور پر کہتے ہیں

آج کے دور میں جس ادارے، کمپنی یا ملک کے پاس جتنا معیاری، مستند اور منظم ڈیٹا موجود ہے، وہ کامیابی اور ترقی کی دوڑ میں اتنا ہی آگے ہے۔ اگر ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ دنیا پر راج کرنے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں صرف اپنی مصنوعات کی وجہ سے نہیں بلکہ ان اربوں صارفین کے ڈیٹا کی بنیاد پر دنیا کو کنٹرول کر رہی ہیں جو ہر سیکنڈ میں پیدا ہو رہا ہے۔

ایک وقت تھا جب معاشی و تجارتی اداروں کے دفاتر الماریوں، فائلوں اور کتابوں کے ذخائر سے بھرے ہوتے تھے۔ کسی ایک پرانے ریکارڈ یا صارف کی معلومات کو تلاش کرنے کے لیے دنوں اور ہفتوں کا وقت درکار ہوتا تھا۔ مگر آج کا منظرنامہ بالکل مختلف ہے۔ ڈیٹا اب کاغذوں اور کتابوں کا محتاج نہیں رہا بلکہ اس نے ورچوئل پلیٹ فارمز (Cloud Infrastructure) کا روپ دھار لیا ہے۔

آج ایک چھوٹی سی کمپیوٹر فائل، یا ایک معمولی سی ڈسک کے اندر اتنی گنجائش موجود ہے کہ وہ ہزاروں کتابوں اور لاکھوں فائلوں کے........

© Daily Urdu (Blogs)