Mukalma
مکالمہ کوئی" دھونس" نہیں ہوتا۔۔ کوئی "کٹر" نظریات کی "برین واشنگ" نہیں ہوتی۔۔ کسی بات کو ہر صورت "قبول" اور ہر صورت میں"رد" کرنے کا مزاج نہیں ہوتا بلکہ یہ "افہام و تفہیم" کی ایک کوشش ہوتی ہے۔۔ یہ مختلف نظریات کو پرکھنے کی سبیل ہوتا ہے۔۔ یہ ذہن کے بند "دریچوں" کو کھولنے کا ایک طریق ہوتا ہے۔۔ یہ کچھ سننے اور کچھ سنانے کی ایک پر مغز "داستان" ہوتا ہے۔۔
یہ مختلف افکار کے افراد کے ذہنوں میں "ازخود" پنپنے والے سوالات کے جوابات کی نئے انداز اور نئی تحقیقات کی روشنی میں ترسیل و تفہیم کی ایک کوشش ہوتا ہے یا سوسائٹی میں بسنے والے لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے "ابہامات" و اشکالات کے ازالہ کی ایک "سعی" ہوتا ہے اور اس کا ہونا جہاں "مختلف الفکر" احباب کو قریب ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے وہیں ذہنوں میں پائے جانے والے قدیم خیالات کو عصر حاضر کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کیوں کہ قران اور دین اب ختم نبوت کے بعد "غیر مبدل" یعنی بدلنے والا نہیں۔۔ اب شریعت و صاحب شریعت کے احکامات نے قیامت تک افراد معاشرہ کی راہنمائی کرنی ہے اور ہدایت کا سرچشمہ کوئی اور نہیں صرف یہی ہیں تو وقت کے بدلتے ہوئے رجحانات و افکار کے مطابق معانی و مفاہیم کی وسعت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو "اپ ٹو ڈیٹ" کرنا ضرورت بھی ہے اور منہج نبوت ﷺ سے........
