Dimagh Ko Sabzi Ki Tokri Na Banayen
دماغ کو سبزی کی ٹوکری نہ بنائیں
ہمارے ایک بزرگ ہیں۔ ان کی باتوں میں ہمیشہ کوئی بالکل نئی بات ہوتی ہے۔ جوانی میں تو سب ہی بھرپور زندگی گزارنے ہیں لیکن ان کا بڑھاپا دیکھ کر بھی ایسی زندگی گزارنے کی خواہش جاگتی ہے۔ صحت قابل رشک اور دور از اشک ہے۔ آپ کے تعارف کے لیے بس ایک بات سن لیجئے۔ سال بھر اعتدال سے سب کچھ کھاتے پیتے ہیں۔ کہتے پیں معدہ درست تو سمجھو تن درست جس کے لیے انہوں نے ایک دلچسپ طریقہ کار اختیار کیا ہے۔ سال میں ایک مرتبہ کینٹ اسٹیشن جاتے ہیں اور وہاں کی سبیل میں زنجیر لگے گلاس سے خوب سیر ہو کر پانی پیتے ہیں۔ جو پوچھتا ہے تو کہتے ہیں دنیا بھر کے ٹیسٹ کرانے سے بہتر ہے کہ اپنی قوت مدافعت چیک کرنے کے لیے کینٹ اسٹیشن کا پانی پی آو۔
بزرگ بات مختصر کرتے ہیں لیکن بہت بامعنی ہوتی ہے اور سوچ کے نئے نئے پرت کھولتی ہے۔ ایک دن میں ان کے پاس بیٹھا تھا۔ خاموش تھا۔ ذہن کسی مسئلے میں الجھا تھا۔ بہت بڑے........
