Na Zaroorat Se Zyada Shakti, Na Zaroorat Se Zyada Muhabbat
نہ ضرورت سے زیادہ سختی، نہ ضرورت سے زیادہ محبت
بچوں کی تربیت ایک ایسا نازک فن ہے جس میں ذرا سی زیادتی یا کمی، ایک معصوم دل پر عمر بھر کے اثرات چھوڑ جاتی ہے۔ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ سختی بچوں کو مضبوط بناتی ہے اور بے حد محبت انہیں بگاڑ دیتی ہے۔ مگر حقیقت اس کے بیچ کہیں کھڑی ہوتی ہے، جہاں توازن ہی اصل کامیابی ہے۔
ہماری سوسائٹی میں کچھ والدین ایسے ہیں جو ہر وقت بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعے "سیدھا" رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ اگر آج ہم نے سختی نہ کی تو کل دنیا انہیں سخت سبق سکھائے گی۔ وہ ہر غلطی پر ٹوکنا، ہر بات پر روکنا اور ہر خوشی پر حد لگانا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مسلسل تنقید اور ڈر کے سائے میں پلنے والا بچہ باہر سے جتنا بھی مضبوط نظر آئے، اندر سے ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔
ایسے بچے اکثر اپنی خوشیاں چھپا لیتے ہیں، اپنے دکھ بیان کرنے سے کتراتے ہیں اور سب سے بڑھ کر، وہ محبت مانگنے سے بھی ڈرنے لگتے ہیں۔ انہیں یقین ہی نہیں رہتا کہ کوئی انہیں بغیر تنقید کے قبول کر سکتا ہے۔ وہ ہر وقت خود کو غلط سمجھتے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی درست کیوں نہ ہوں۔
دوسری طرف، کچھ والدین محبت کے نام پر ہر حد پار کر جاتے ہیں۔ وہ بچوں کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں، ہر غلطی کو نظر انداز کرتے ہیں اور کبھی انہیں "نہ" کہنا سکھاتے ہی نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے بچے زندگی کی حقیقتوں کا سامنا........
