Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (3)
ڈھلتے سورج کے تعاقب میں (3)
2003 عرب کا آسمان۔۔ بہار کا موسم
عمر کی آنکھیں بند تھیں مگر وہ جاگ رہا تھا، وہ سونا چاہتا تھا لیکن ہمیشہ اسکے ساتھ ایسا ہوتا کے جو چیز وہ چاہتا وہ اسے نہ ملتی اور اچھی نیند بھی اس لسٹ میں شامل تھی۔ دبئی کا درجہ حرارت آجکل 45 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، کھلا آسمان اور ہوا کی رفتار 22 میل فی گھنٹہ تھی۔ پائلٹ نے اناؤنسمنٹ کی، "دبئی وقت کے مطابق صبح کے دس بج کر پینتالیس منٹ ہو چکے ہیں، ہم تقریباً 28 منٹ بعد لینڈ کرنے والے ہیں، مہربانی فرما کر اپنی نشست پر بیٹھں رہیں اور اپنے ہوائی سفر کا مزہ اٹھائیں"۔
پائلٹ کی اناؤنسمنٹ، مسافروں کی بڑبراہٹ اور انجن کی تیز آواز نے عمر آنکھ کھول دی۔ اس نے سیٹ کو سیدھا کیا اور قریب سے گزرتی ایک ایئر ہوسٹس کو جوس یا پانی کا ایک گلاس لانے کو کہا، "سوری سر، ہم بیس منٹ میں لینڈ کرنے والے ہیں، اس وقت ہم آپکو کچھ بھی پیش نہیں کر سکتے۔ ایئر ہوسٹسس نے جواب دیا۔ عمر نے کچھ لمحے کے لئے ایئر ہوسٹس کی طرف اس طرح دیکھا جیسے کہہ رہا ہو، کہ میں آپ لوگوں کی اس عجیب پالیسی کو نہیں مانتا، لیکن تب۔۔ اچانک اسکی نظر جہاز کی کھڑکی سے باہر کھلے آسمان پر پڑی، بادلوں کی ان گنت تہوں سے جھانکتا سورج اور آسمان بہت خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے۔ اس نے محسوس کیا جیسے ہمیشہ سے وہ اسی سورج کی ہی تلاش میں تھا اور اگر اس نے اپنی نظریں پیچھے ہٹائیں تو شائد وہ اس سورج کو ہمیشہ کے لئے کھو دے گا۔ کچھ دیر بعد بادلوں کے پیچھے سے سورج دوبارہ نمودار ہوا اور ایک بہت ہی روشن آسمان! عمر نے دیکھا کے جیسے جیسے جہاز رن وے کے قریب جا رہا تھا، بادل غائب ہوتے جا رہے تھے۔
وہ ایک روشن دن تھا۔ شہر بہت خوبصورت دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے جہاز کی کھڑکی سے نیچے دیکھا، بحیرہ عرب اور دوسری خلیجی ریاستوں کو نظر انداز کرتے ہوے وہ دنیا کی مشہور ترین کشتی نما ہوٹل کی عمارت دیکھ رہا تھا، جس کا اوپری حصہ دبئی کے سورج میں چمک رہا تھا۔ جہاز نچلی پرواز پر تھا، لینڈ نگ کے دباؤ اور جہاز کی تیز آواز سے بچنے کے لئے وو ہمیشہ اپنے پاس چوئنگ گم ضرور رکھتا۔ وہ اپنی جینزکی جیبیں ٹٹولنے لگا، کچھ تلاش کے بعد اپنے لیپ ٹاپ کے کیس سے اسے ایک چوئنگ گم کا پیکٹ مل گیا۔
"تم فرح ہو؟" ایک بھری بھرکم آواز میں کسی نے کہا۔۔ وہ سن نہیں سکتی تھی، لیکن جب وہ کابل ایئر پورٹ پر زمان چائے شاپ کے قریب اپنا سامان اتار رہی تھی تو اس نے کچھ لوگوں کی موجودگی کو محسوس کیا۔ جب اس نے سر اٹھا کر دیکھا، تو گھنی مونچھوں والا ایک لمبا چوڑا آدمی، اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔ وہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ لمبے آستینوں کا افغانی کرتا پہنے کھڑا تھا۔۔ ان کے پاسس اسلحہ تھا اور اپنی پگڑی میں بھی کچھ چھپا رکھا تھا جس کا کھلا حصہ انکے شانے پر لٹک رہا تھا۔ بھورے رنگ کا چمڑے کا ایک پٹا بھی دکھائی دے رہا تھا۔ وہ لوگ اس سے پشتو میں بات کر رھے تھے، پشتو زبان جو افغانستان، پاکستان اور ایران کے کچھ حصوں میں بولی جاتی ہے۔ وہ اپنا سر اس انداز میں ہلانے لگی جیسے سب کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ وہ آدمی پھر چلایا، " تمہارا نام فرح ہے یا نہیں؟" اس نے بد حواسی سے سر ہلایا اور اشاروں کی زبان میں........
