Pakistan Ka Mission Aman e Aalam
پاکستان کا مشن امن عالم
مشرقِ وسطیٰ کے تزویراتی افق پر چھائے ہوئے جنگ اور بے یقینی کے گہرے بادل اب چھٹتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں اور اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں اگر کسی ملک کا نام ایک مرکزی ستون اور "مشنِ امن" کے روحِ رواں کے طور پر ابھرا ہے، تو وہ بلا شبہ پاکستان ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دورہ سعودی عرب اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے پاکستانی وفد کا دورہ تہران محض دو طرفہ تعلقات کی رسمی تجدید نہیں، بلکہ ایک ایسی عالمی سفارتی بساط ہے جس نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان دہائیوں سے جمی برف کو پگھلانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کا حالیہ پریس کانفرنس میں یہ برملا اعتراف کہ "ایران سے مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے"، اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ عالمی سیاست کے پیچیدہ گورکھ دھندوں میں اب اسلام آباد کا اثر و رسوخ ایک نئی اور معتبر بلندی کو چھو رہا ہے۔ پاکستان کے اس غیر معمولی کردار کی بازگشت صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ عالمی میڈیا بھی اسے ایک تاریخی موڑ قرار دے رہا ہے۔
سی این این، الجزیرہ، بی بی سی، فوکس نیوز، نیویارک ٹائمز، وال سٹریٹ جنرل، رائیٹرز، سکائی نیوز، عرب میڈیا اور واشنگٹن پوسٹ جیسے عالمی نشریاتی اداروں کی رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں آنے والے دن اس بحران کے حل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ خاص طور پر نائب امریکی صدرجے ڈی وینس اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کی تعریف نے ان حلقوں کو حیران کر دیا ہے جو خطے میں پاکستان کے کردار کو محدود دیکھنا چاہتے تھے۔
وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے اشارے بتاتے ہیں کہ واشنگٹن اب ایران کے ساتھ ایک........
