Hai Zindagi Ka Maqsad Doosron Ke Kaam Ana
ہے زندگی کا مقصد دوسروں کے کام آنا
آج کے اس مادہ پرست دور میں ہم ڈگریاں تو حاصل کرتے ہیں لیکن اصل تعلیم کی روح جو انسانیت ہے اس سے ہم دور ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ اخلاقیات کا درس ہمیں کہیں نہیں دیا جاتا۔ جیسے جیسے تعلیم عام ہو رہی ہے ویسے ہی انسانیت ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد شعور کا حصول ہے جس سے پڑھے لکھے اور ان پڑھ میں فرق محسوس کیا جا سکے۔
اگر دیکھا جائے تو سب سے بڑا سبق تو انسانیت کا ہے جو ہمیں پڑھایا ہی نہیں جاتا۔ آج کے مطلب پرست دور میں جس دل میں انسانیت کا جذبہ موجود ہو وہ لوگ نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔ اپنے بارے میں تو ہر کوئی سوچتا ہے لیکن آٹے میں نمک کے برابر وہ لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کا سوچتے ہیں۔ ان کی تکلیف، آرام اور خوشی کا خیال رکھتے ہیں۔
ایک پُرسکون و خوشحال معاشرہ تبھی تشکیل پاتا ہے جب اس میں رہنے والے ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں، ایک دوسرے کے مشکل وقت میں ساتھ دیتے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق جب ہم کسی کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں یا کوئی نیک کام کرتے ہیں تو اس سے ہمارے اندر اعتماد، امید اور اطمینان کے جذبات بڑھتے ہیں۔
جب ہم کسی کی مدد کرتے ہیں یا اچھا برتاؤ کرتے ہیں تو دوسروں کے ساتھ نہ صرف ہمارے تعلقات بہتر ہوتے ہیں بلکہ ایک پر سکون فضا قائم ہو جاتی ہے جس میں ہر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا سوچتا ہے۔ ظاہر ہے جب ہم کسی کا اچھا سوچیں گے اور اس کے ساتھ بھلا کریں گے تو وہ بھی ہمارے ساتھ عمدہ سلوک کرے گا اس طرح ایک خوبصورت معاشرہ بنے گا جس میں انسانیت کا خیال ہوگا۔
نرم دل انسان کبھی کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا اس کے علاوہ یہ ہماری تربیت کا حصہ ہونا چاہیے کہ ہم دوسروں کے لیے........
