menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Toota Hua Tara: Aik Mushahida

28 0
05.05.2026

ٹوٹا ہوا تارا: ایک مشاہدہ

وہ ملک جو آج بنگلہ دیش کہلاتا ہے، کبھی مشرقی پاکستان ہوا کرتا تھا۔ اس خطے کے لوگوں کو سمجھنا آج بھی آسان نہیں اور شاید اسی لیے ان کے سیاسی رویوں، اجتماعی نفسیات اور ردعمل کو جاننے کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے جناب الطاف حسن قریشی نے ساٹھ کی دہائی میں اس خطے کا بار بار سفر کیا، گلی کوچوں میں گھومے، عام لوگوں سے ملے اور ان کے مزاج کو قریب سے سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کے مشاہدات اور تجربات بالآخر ان کی معروف کتاب "مشرقی پاکستان ٹوٹا ہوا تارا" میں محفوظ ہو گئے، جو آج بھی اس خطے کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم حوالہ ہے۔

اگر ہم حالیہ حالات کو دیکھیں، خاص طور پر شیخ حسینہ کے خلاف ابھرنے والی عوامی تحریک یا شیخ مجیب الرحمٰن کے مجسموں کا گرایا جانا، تو ان واقعات کو سمجھنے کے لیے محض سیاسی بحث کافی نہیں۔ اس کے پیچھے ایک مخصوص اجتماعی مزاج کارفرما ہے، جسے سمجھے بغیر کوئی بھی رائے ادھوری رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کتابی علم کے ساتھ ساتھ ذاتی تجربات بھی اہم ہو جاتے ہیں، کیونکہ اصل تصویر وہی دکھاتے ہیں جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور روزمرہ زندگی میں محسوس کرتے........

© Daily Urdu (Blogs)