Super Sobers, Wo Shakhs Jo Sab Kuch Kar Sakta Tha (3)
"سپر سوبرز"، وہ شخص جو سب کچھ کر سکتا تھا (3)
جان بیناؤڈ: سابق آسٹریلوی بلے باز
وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے بالکل تازہ ہے۔ میں میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں ورلڈ الیون کی جانب سے کھیل رہا تھا۔ انتخاب عالم گیند بازی کر رہے تھے۔ وہ بڑے ہوشیار لیگ اسپنر تھے۔ ایک گیند انہوں نے غلط گوگلی (رانگ ان) کی۔ میں اسے ٹاپ اسپن سمجھا اور بلا ذرا سا اندرونی کنارہ لے گیا۔
ان دنوں اسپنر کے خلاف بیک ورڈ شارٹ لیگ پر فیلڈر رکھنا معمول کی بات تھی۔ وہاں گیری سوبرز کھڑا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ میرے سائے کے ساتھ چل رہا ہو۔ گیند پلک جھپکتے اس کی طرف گئی۔
اس نے بائیں ہاتھ سے زمین سے چند انچ اوپر ایک ہاتھ میں ایسا کیچ پکڑا کہ میں خود بھی چند لمحوں تک یقین نہ کر سکا۔ یہ ایک ایسا کیچ تھا جسے آج بھی یاد کرتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ انسان کی جسمانی صلاحیتوں کی حد آخر کہاں ختم ہوتی ہے۔
اسی میچ میں اس نے آسٹریلوی حملے کو تہس نہس کرتے ہوئے 256 رنز بنائے۔ مگر ان رنز سے زیادہ دو شاٹ آج بھی میرے حافظے پر نقش ہیں۔ پہلا شاٹ ڈینس للی کی ایک یارکر پر تھا۔ یہ ایسی گیند تھی جس پر ایک اچھا بلے باز بھی صرف اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن سوبرز نے نہ صرف اسے روکا بلکہ آف سائیڈ کی طرف ایسا ڈرائیو کھیلا کہ گیند پوائنٹ کی باڑ سے ٹکرا کر پندرہ میٹر واپس میدان میں آ گئی۔
دوسرا شاٹ باب میسی کی نئی گیند پر تھا۔ گیند آخری لمحے اندر آئی۔ سوبرز پہلے........
