menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Punjab Budget: Pension Izafa 3.5 Feesad

32 0
previous day

پنجاب بجٹ: پینشن اضافہ 3.5 فیصد

پنجاب کا سالانہ بجٹ پیش ہو چکا ہے۔ حکومتی حلقے اسے ترقی، خوشحالی، فلاح اور عوامی خدمت کا بجٹ قرار دے رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے انبار لگائے جا رہے ہیں، اربوں اور کھربوں روپے کے منصوبوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، نئی سڑکوں، ہسپتالوں، سکولوں اور ترقیاتی پروگراموں کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ مگر پینشن اضافہ محض 3.5 فیصد! کتنی شرم کی بات ہے۔ اس سے بہتر تھا، نہ کرتے۔

یقیناً کسی بھی حکومت کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بیان کرے اور اپنے منصوبوں کو عوام کے سامنے رکھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ترقیاتی اخراجات ناگزیر ہوتے ہیں۔

لیکن بجٹ کا اصل امتحان بڑے بڑے منصوبوں میں نہیں بلکہ اس سوال میں پوشیدہ ہوتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں کیا فرق پڑے گا؟ وہ سرکاری ملازم جو اپنی تنخواہ پر گھر چلاتا ہے، وہ پنشنر جس نے اپنی جوانی ریاست کی خدمت میں گزار دی، وہ بیوہ جس کا سہارا صرف پنشن ہے اور وہ سفید پوش خاندان جو ہر ماہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سامنے بے بس کھڑا ہے، کیا اس بجٹ میں ان کے لیے بھی کوئی حقیقی ریلیف موجود ہے؟

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے عوام نے جس مہنگائی کا سامنا کیا ہے، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ آٹا، چاول، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، گوشت، دودھ، بجلی، گیس، پٹرول، ادویات، تعلیمی اخراجات اور گھریلو ضروریات کی تقریباً ہر شے کی قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ وہ خاندان جو چند سال پہلے عزت کے ساتھ اپنی آمدنی میں گزارا کر لیتے تھے، آج ہر ماہ بجٹ کے خسارے کا شکار ہیں۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشنیں کاغذوں میں بڑھتی ہیں لیکن بازار میں ان کی قوتِ خرید مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اگر........

© Daily Urdu (Blogs)