menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kitab Tehzebon Ki Maa: Boo e Gul, Nala e Dil Aur Dood e Chiragh e Mehfil (24)

31 0
17.05.2026

کتاب تہذیبوں کی ماں: بوئے گل، نالۂ دل اور دودِ چراغِ محفل (24)

زندگی کبھی ایک سیدھی لکیر نہیں ہوتی۔ یہ خوشبو، آہ، دھواں، روشنی، اندھیرا، ہجرت، یاد، شکست اور امید کے بے شمار موسموں سے مل کر بنتی ہے۔ بعض لوگ زندگی گزارتے ہیں اور بعض لوگ زندگی کو محسوس کرتے ہیں۔ جو لوگ زندگی کو محسوس کرتے ہیں، وہ اپنے اندر ایک پوری کائنات رکھتے ہیں۔ ان کی خاموشی میں داستانیں ہوتی ہیں، ان کی مسکراہٹوں میں شکستگی چھپی ہوتی ہے اور ان کے لفظوں میں برسوں کی جلتی ہوئی راتوں کا دھواں ہوتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک نام شورش کاشمیری کا بھی ہے، جن کی شخصیت محض ایک صحافی، ادیب یا خطیب کی شخصیت نہیں تھی بلکہ ایک پورا عہد ان کے وجود میں سانس لیتا تھا۔ ان کی گفتگو میں آگ بھی تھی اور آنسو بھی، ان کے قلم میں بغاوت بھی تھی اور محبت بھی۔ شاید اسی لئے جب انہوں نے اپنی خود نوشت سوانح کا نام "بوئے گل نالۂ دل دودِ چراغِ محفل" رکھا تو یہ محض ایک ادبی ترکیب نہ رہی بلکہ پوری زندگی کا استعارہ بن گئی۔

شورش کاشمیری سے جب پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنی خود نوشت کا یہ نام کس مناسبت سے رکھا ہے تو ان کا جواب اپنے اندر ایک پورا جہان رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "بوئے گل" ان کا بچپن تھا، جو آہوئے رمیدہ کی طرح اڑنچھو ہوگیا۔ اس ایک جملے میں بچپن کی پوری نفسیات سمٹ آئی ہے۔ بچپن واقعی خوشبو کی طرح ہوتا ہے۔ اسے پکڑا نہیں جا سکتا، اسے روکا نہیں جا سکتا۔ وہ چند لمحوں........

© Daily Urdu (Blogs)