menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Federalist Paper Number 1, Aeen Sazi Aur Awami Danish

29 0
15.08.2026

فیڈرلسٹ پیپر نمبر 1، آئین سازی اور عوامی دانش

تاریخ میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب ایک قوم کو اپنے حال اور مستقبل کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب جنگیں ختم ہو جاتی ہیں مگر اصل معرکہ شروع ہوتا ہے، جب آزادی حاصل ہو جاتی ہے مگر اس آزادی کو ایک منظم سیاسی نظام میں ڈھالنے کا سوال سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے ہی ایک نازک موڑ پر الیگزینڈر ہیملٹن نے "فیڈرلسٹ پیپر نمبر 1" تحریر کیا۔ یہ پورے سلسلے کا پہلا مضمون تھا اور اسی لیے اس کی حیثیت ایک تمہید سے کہیں زیادہ ہے۔ اس میں آئین کی کسی مخصوص شق یا ادارے کی تفصیل بیان نہیں کی گئی بلکہ ایک بہت بڑا سوال اٹھایا گیا: کیا انسان عقل، غور و فکر اور اجتماعی دانش کے ذریعے اپنی حکومت کا نظام تشکیل دے سکتے ہیں یا ان کی تقدیر کا فیصلہ ہمیشہ حادثات، طاقت اور جذبات ہی کریں گے؟

یہ سوال اٹھارہویں صدی کے امریکہ تک محدود نہیں تھا۔ درحقیقت یہ ہر اس قوم کا سوال ہے جو اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہتی ہے۔ ہیملٹن نے اپنی قوم کو یاد دلایا کہ وہ ایک ایسے فیصلے کے دہانے پر کھڑی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے اور ایسے فیصلے صرف جوش، نعروں یا وقتی مفادات کی بنیاد پر نہیں کیے جا سکتے۔

ہیملٹن کا بنیادی استدلال یہ تھا کہ آئین سازی محض قانونی ماہرین کا کام نہیں بلکہ پورے معاشرے کی فکری بلوغت کا امتحان ہے۔ جب کوئی قوم اپنے سیاسی ڈھانچے کی تشکیل کرتی ہے تو وہ دراصل اپنے اجتماعی کردار، اپنی ترجیحات اور اپنے مستقبل کے خدوخال متعین کرتی........

© Daily Urdu (Blogs)