Eid Ul Azha: Qurbani Se Batin Ki Tatheer Tak
عید الاضحیٰ: قربانی سے باطن کی تطہیر تک
عید الاضحیٰ محض ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ انسان کے باطن میں برپا ہونے والا ایک روحانی انقلاب ہے۔ یہ دن ہمیں صرف خوشی منانے، نئے کپڑے پہننے، عمدہ کھانے پکانے اور جانور قربان کرنے کا پیغام نہیں دیتا بلکہ یہ انسان کو اس کے اصل مقام، اصل مقصد اور اصل تعلق کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ وہ ساعتِ مبارکہ ہے جب ایک بندۂ مومن اپنے اندر جھانک کر دیکھتا ہے کہ اس کے دل میں خدا کی محبت کتنی ہے، اس کی اطاعت کتنی ہے اور وہ اپنی خواہشات کے مقابلے میں اللہ کی رضا کو کس مقام پر رکھتا ہے۔
عید الاضحیٰ دراصل حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی اُس لازوال داستانِ عشق و وفا کی یاد ہے جس نے رہتی دنیا تک انسانیت کو اطاعت، قربانی اور تسلیم و رضا کا ایسا درس دیا جو کسی اور مثال میں کم ہی ملتا ہے۔ یہ عید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان صرف دعووں کا نام نہیں بلکہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنی سب سے عزیز چیز بھی ربِ کائنات کے حکم پر قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
قربانی کا اصل مفہوم محض جانور کے گلے پر چھری پھیر دینا نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ عمل صرف ایک رسم بن کر رہ جاتا۔ قربانی دراصل اپنے نفس کی گردن پر چھری چلانے کا نام ہے۔ یہ اپنی انا، تکبر، خود پسندی، حرص، لالچ، نفرت اور دنیا پرستی کو اللہ کے حضور ذبح کر دینے کا استعارہ ہے۔ انسان جب تک اپنے اندر چھپے ہوئے بتوں کو نہیں توڑتا، اس وقت تک قربانی کی روح تک نہیں پہنچ سکتا۔
بعض اوقات انسان مسجد میں سجدے تو کرتا ہے مگر دل میں غرور پالے رکھتا ہے، زبان پر........
