menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bantne Se Barhti Hui Roshani

20 0
24.05.2026

بانٹنے سے بڑھتی ہوئی روشنی

مختار مسعود نے لکھا تھا: "اچھا انسان، اچھی کتاب اور اچھی گفتگو جہاں میسر آئے اس میں دوسروں کو بھی شریک کرو، ان سے تنہا فائدہ اٹھانا کم ظرفی کی دلیل ہے"۔ یہ چند لفظ بظاہر ایک سادہ نصیحت محسوس ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت انسانی تہذیب، علم، اخلاق اور معاشرت کے پورے فلسفے کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ انسان کی اصل عظمت صرف یہ نہیں کہ وہ خود اچھا ہو، اچھی کتابیں پڑھ لے یا دانشمندانہ گفتگو سے لطف اندوز ہو، اصل عظمت یہ ہے کہ وہ اس خیر کو دوسروں تک منتقل کرے۔ روشنی اگر صرف ایک کمرے تک محدود رہے تو چراغ کی افادیت کم ہو جاتی ہے، لیکن جب وہ دوسرے گھروں تک پہنچتی ہے تو بستی جگمگا اٹھتی ہے۔ یہی حال اچھے انسانوں، اچھی کتابوں اور اچھی صحبتوں کا ہے۔ یہ نعمتیں اگر صرف ذات تک محدود رہ جائیں تو ان کا حسن ادھورا رہ جاتا ہے۔

زندگی میں بعض لوگ ایسے ملتے ہیں جن کے چند جملے برسوں تک دل میں چراغ کی طرح روشن رہتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں شائستگی، انکسار، تجربہ اور خلوص شامل ہوتا ہے۔ وہ انسان کو صرف معلومات نہیں دیتے بلکہ اس کے اندر ایک نئی زندگی پھونک دیتے ہیں۔ ایسے لوگ دراصل چلتے پھرتے مکتب ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر علم کو طاقت سمجھا جاتا ہے اور طاقت کو چھپا کر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر دوسروں کو بھی راستہ مل گیا تو ان کی اپنی انفرادیت کم ہو جائے گی۔ یہی ذہنیت حسد، تنگ دلی اور معاشرتی زوال کو........

© Daily Urdu (Blogs)