menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Allied Bank: Saarif Ki Azmaish

29 0
21.08.2026

الائیڈ بینک: صارف کی آزمائش

بینکنگ کا اصل امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب ایک خوش حال اور مطمئن گاہک خاموشی سے اپنا کام کروا کر واپس چلا جائے، اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ایک عام شہری، ایک پنشنر یا ایک ایسا گاہک جس نے برسوں سے اپنا اعتماد کسی مالیاتی ادارے کے ساتھ وابستہ کر رکھا ہو، کسی مشکل یا شکایت کے ساتھ ادارے کے دروازے پر پہنچتا ہے۔ اس وقت ادارے کی پیشہ ورانہ تربیت، اخلاقی ذمہ داری اور گاہک کے احترام کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔

اگر شکایت کرنے والے شخص کو یہ احساس ہونے لگے کہ اس کی بات سننے کے بجائے اسے خاموش کرانا مقصد ہے، اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے رسمی تحریر تھما دی گئی ہے اور شکایت کی تحقیق کرنے کے بجائے اسی انتظامیہ کے مؤقف کو درست مان لیا گیا ہے جس کے طرز عمل کے خلاف شکایت کی گئی تھی، تو پھر سوال صرف ایک گاہک کی تکلیف کا نہیں رہتا بلکہ پورے ادارہ جاتی نظام پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

حال ہی میں الائیڈ بینک سے موصول ہونے والا ایک تحریری جواب اسی بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے۔ شکایت ایک پنشن اکاؤنٹ میں بائیومیٹرک کی تجدید کے معاملے سے متعلق تھی، مگر جواب میں شکایت کے اصل جوہر کو چھونے کے بجائے یہ بتایا گیا کہ گاہک شاخ میں گیا، عملے نے اسے طریقۂ کار سمجھایا اور گاہک نے فوری تجدید پر اصرار کیا۔ بظاہر چند سطروں کا یہ جواب بہت معصوم دکھائی دیتا ہے، مگر غور کیا جائے تو اس میں ایک بنیادی خامی صاف نظر آتی ہے۔ جس بات کی شکایت کی گئی تھی، اس کا جواب ہی نہیں دیا گیا۔ گاہک نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ بائیومیٹرک کب واجب ہے، اصل سوال یہ تھا کہ شاخ میں اس کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا گیا، اس کے ساتھ پیش آنے والی صورت حال کیوں پیدا ہوئی اور کیا بینک انتظامیہ اس طرز عمل کو درست سمجھتی ہے یا نہیں۔ شکایت کا مقصد محض یہ معلوم کرنا نہیں ہوتا کہ ادارے کے پاس کیا ضابطہ موجود ہے، بلکہ یہ بھی جاننا ہوتا ہے کہ اس ضابطے کو انسانوں کے ساتھ کس انداز میں نافذ کیا جا رہا ہے۔

یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر کسی گاہک کی شکایت کسی شاخ کے عملے یا انتظامیہ کے رویے کے بارے میں ہو تو کیا شکایت کے مرکزی دفتر کا کام صرف شاخ کا مؤقف نقل کر دینا ہے؟ کیا شکایت کنندہ کو یہ بتا دینا کافی ہے کہ ہماری معلومات کے مطابق آپ شاخ گئے تھے، عملے نے آپ کو طریقۂ کار بتایا اور آپ نے فوراً کام کرنے پر اصرار کیا؟ اگر یہی معیار بنا لیا جائے تو پھر شکایت کے ازالے کا پورا نظام بے معنی ہو جاتا ہے۔ شکایت کنندہ ایک واقعہ بیان کرتا ہے، ادارہ اسی واقعے کے دوسرے فریق سے وضاحت لیتا ہے، پھر اسی وضاحت........

© Daily Urdu (Blogs)