menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Barf Mein Khufiya Police

17 0
yesterday

پہلے سمسٹر کا رزلٹ آ چکا تھا، الحمدللہ روسی زبان کے گروپ میں خاکسار نے جبکہ انگریزی گروپ میں کامران قدیر نے ٹاپ کیا تھا، تعلیمی میدان میں گاڑی پہلے گیئر میں ہی رفتار پکڑ چکی تھی، تاہم موسم سرما نے زندگی کی رفتار ضرور سست کر دی تھی، دسمبر کا مہینہ، چھٹیاں اور برفباری روزمرہ کا معمول بن چکی تھے، زیادہ وقت ہاسٹل میں لحاف کے اندر دبکے گزرتا، کھڑکی سے باہر برف سے ڈھکے مناظر دیکھتے، باہر نکلنے کا خیال آتا تو پہلے موسم کی سنگینی کا جائزہ لیتے، پھر خوب تیار شیّار ہوتے، گرم کپڑوں کی کئی تہیں چڑھاتے، ہمارے پاس مہم جوئی کا جذبہ تو تھا، مگر قطبی مہم جوؤں جیسی تربیت ناپید تھی!

ہاسٹل سے باہر درخت، راستے، عمارتوں کی چھتیں اور آس پاس کا سارا منظر برف کی سفید چادر اوڑھے ہوتا تھا، دریائے ارتش کے کنارے منچلوں کی ٹولیاں دکھائی دیتیں، برف پر پھسلنے کے شوقین اپنی مہارت کے جوہر دکھاتے، کوئی مچھلیاں پکڑنے میں مصروف یا سرد موسم کی پروا کیے بغیر قدرت کے اس انوکھے کھیل سے لطف اندوز ہو رہا ہوتا، ہم انہیں دیکھ کر محظوظ ہوتے، البتہ مچھلیاں پکڑنے والوں کو دیکھ کر یہ خیال آتا کہ بیچاری پہلے ہی ٹھنڈ سے بچنے کے لیے گہرائی میں بیٹھی ہوں گی اور اوپر سے یہ شکاری بھی ان کے پیچھے پڑے ہیں، تاہم ہماری بہادری کی ایک حد تھی، جب سردی ہڈیوں تک پہنچنے لگتی، تو مزید مہم جوئی کے بجائے واپسی میں عافیت سمجھتے، سردی سے کپکپاتے دیکھ کر مقامی لوگوں ہمیں تسلی دیتے کہ پہلا سال سردی زیادہ محسوس ہوگی، لیکن دوسرے سال شدت کم محسوس ہونے لگے گی، جبکہ ہم "جنرل ونٹر" کے جاہ و جلال سے گھبرائے رہتے تھے۔

اُس زمانے میں موبائل فون مارکیٹ میں دستیاب تھے لیکن خریدنا اور افورڈ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی، آج کی طرح یہ صورتِ حال نہیں تھی کہ ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل اور کھانا کھانے سے پہلے پلیٹ کی........

© Daily Urdu (Blogs)