Huzur e Pak Bahaisiat Sipah Salar Aur Jadeed Askari Hikmat e Amli
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب، ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حیاتِ انسانی کے ہر گوشے میں کامل نمونہ بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ عبادت و اخلاق ہی نہیں بلکہ قیادت، سیاست اور عسکری حکمتِ عملی میں بھی ایسی جامع مثال ہیں جس کی نظیر انسانی تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ بحیثیتِ سپہ سالار حضورِ اکرم ﷺ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی بقا محض نیک نیتی سے نہیں بلکہ بصیرت، تیاری اور بروقت فیصلوں سے وابستہ ہوتی ہے۔ ان ایک عظیم اخلاقی اور روحانی رہنما ہونے کے باوجود، حضور ﷺ نے امت کے دفاع کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔
سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ ﷺ کی عسکری حکمتِ عملی جذبات پر نہیں بلکہ حقیقت پسندی پر مبنی تھی۔ مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد آپ ﷺ نے داخلی و خارجی خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے طلایہ دستے بھیجے جاتے، راستوں کی نگرانی کی جاتی اور بروقت اطلاعات حاصل کی جاتیں۔ یہ دراصل ابتدائی شکل کی وہی انٹیلی جنس (جاسوسی) تھی جسے آج جدید ریاستیں اپنی بقا کا بنیادی ستون سمجھتی ہیں۔ آپ ﷺ کے نظام جاسوسی کا ایک پہلو معاشی جاسوس بھی تھا، مدینہ کے یھودی تاجر تھے اور ان کا تمام کاروبار عبرانی زبان میں ہوتا تھا۔ وہ جب چاہے وہ اپنے کھاتوں میں اپنی مرضی سے تحریف کرلیتے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی تھی۔ جب دنیا کے سب سے بڑے سپہ سالار کو آگاہی ہوئی تو آپ صلعم نے زید بن حارث کو عبرانی زبان سیکھنے کی ترغیب دی اور جلد ہی زبان پر عبور حاصل کرلیا۔ اس طرح یھودیوں کے معاشی راز حاصل کرنے میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی۔ حضور نبی کریم ﷺ جاسوسوں کو مراعات بھی دیتے تھے یہ بلکل ہی ایسے ہے جس طرح آجکل ریاستیں جاسوسوں کو زیادہ مراعات اور زیادہ........
