menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Galileo Aur Musalman Science Dano Ki Kahani

11 1
01.02.2026

ہمارے ملک کے بہت سے نوجوان مغرب کو آزادیٔ اظہار کا سب سے بڑا علمبردار سمجھتے ہیں۔ صبح و شام مغربی تہذیب کے گن گائے جاتے ہیں، اس کی ہر بات کو ترقی، روشن خیالی اور انسانی حقوق کا نام دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر جامعات کے مباحث تک، مغرب کو ایک مثالی دنیا بنا کر پیش کیا جاتا ہے ایسی دنیا جہاں سوچنے، بولنے اور سوال کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔

مگر یہ تصویر مکمل نہیں، بلکہ ایک خوبصورت پردہ ہے، جس کے پیچھے ایک تلخ اور خون آلود تاریخ چھپی ہوئی ہے۔ اگر ہمارے نوجوان اس پردے کے پیچھے جھانک لیں، اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ اسی مغرب میں سچ بولنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا رہا ہے، تو شاید یہ نعرے ان کے ہونٹوں پر جم جائیں اور وہ خود اپنے تصورات سے کانپ اٹھیں۔

فروری کے مہینے کی نسبت سے میں تاریخ کا ایک ایسا دردناک باب پیش کر رہا ہوں جو مغرب کے ان دعوؤں کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ کہانی کسی افسانے کی نہیں، یہ ایک حقیقی انسان کی ہے ایک ایسے سائنس دان کی جس نے آسمان کو سمجھنے کی کوشش کی، مگر زمین پر اسے جینے کا حق بھی مشکل سے ملا۔ یہ کہانی ہے اُس سچ کی جسے دبانے کی کوشش کی گئی، مگر جو صدیوں بعد بھی زندہ ہے۔ تو آئیے چلتے ہیں اور تاریخ کے دریچوں سے جھانکتے ہیں۔

روم کی مذہبی عدالت کا ہال بھرا ہوا ہے، مگر کسی کی سانس سنائی نہیں دیتی۔ پتھر کی دیواروں سے ٹھنڈک نہیں، خوف ٹپک رہا ہے۔ سیاہ جبّوں میں ملبوس جج (چرچ کے پادری) اونچی نشستوں پر بیٹھے ہیں چہرے بے تاثر، آنکھیں سخت، جیسے فیصلہ پہلے ہی لکھا جا چکا ہو۔

درمیان میں ایک 70 سالہ بوڑھا آدمی کھڑا ہے۔

کندھے جھکے ہوئے، جسم لرزتا ہوا، آنکھوں کے گرد بیماری اور بے خوابی کے سائے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے چاند کے دھبے گنے تھے، مشتری کے چاند دیکھے تھے، مگر آج وہ کسی کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتا۔

ایک سرد اور بے رحم آواز گونجتی........

© Daily Urdu (Blogs)