Wo Shadiyan Bhi Kya Shadiyan Thi
وہ شادیاں بھی کیا شادیاں تھیں
کوئی بہت پرانی بات نہیں، آج سے صرف تیس برس پہلے کی بات ہے، مگر کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ زمانہ صدیوں پیچھے رہ گیا ہو۔ جیسے ہم نے صرف سال نہیں گنوائے، ایک پوری زندگی گزار کر کوئی اور دنیا اختیار کر لی ہو۔ آج جب شادی بیاہ کی تقریبات دیکھتا ہوں تو بے اختیار اپنے بچپن کی وہ شادیاں یاد آ جاتی ہیں جن میں نہ دکھاوا تھا، نہ نمود و نمائش، نہ مصنوعی مسکراہٹیں، مگر جانے کیوں ان میں خوشی کچھ زیادہ ہوا کرتی تھی۔
مجھے اپنے چھوٹے چچا کی شادی کچھ کچھ یاد ہے۔ یادداشت بھی عجیب شے ہے، عمر کے ساتھ بہت کچھ دھندلا دیتی ہے مگر بچپن کے بعض منظر دل کے کسی گوشے میں ایسے محفوظ رہتے ہیں جیسے وقت وہاں پہنچ ہی نہ پایا ہو۔
شادی سے کوئی ایک دو دن پہلے نہیں، قریبی عزیز رشتے دار تو تقریباً ایک ہفتہ پہلے ہی گھر میں آ کر ڈیرے ڈال لیتے تھے۔ کسی کو باقاعدہ دعوت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ شادی گھر کی ہوتی تھی مگر خوشی پورے خاندان کی۔ کوئی دور سے آ رہا ہے، کوئی دوسرے گاؤں سے پہنچ گیا ہے، کوئی اپنے بچوں سمیت آ بیٹھا ہے۔ صحن میں چارپائیاں بڑھتی جاتیں اور گھر کی رونق بھی۔
صبح آنکھ کھلتی تو باورچی خانے کے باہر چونترے سے دیسی گھی اور مصالحوں کی خوشبو آ........
