Main Kar Ke Dikhaunga
کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ سنہ 1839، جرمنی کا ایک چھوٹا سا گاؤں، ایک لڑکا تھا جس کا نام فریڈرش آوگست کیکولے تھا۔ گھر کچا، والد معمولی ملازم اور فریڈرش اکثر اسکول کے اخراجات کے لیے استاد کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا رہتا۔ دوست کلاس فیلوز اسے حقارت سے دیکھتے، کپڑوں پر پیوند لگے ہوتے، جوتے اکثر پھٹے ہوئے۔ لیکن اس لڑکے کی آنکھوں میں عزم کا وہ چراغ جل رہا تھا جسے غربت کی آندھیاں بجھا نہ سکیں۔
ایک دن اس نے گاؤں کے ایک کونے میں بیٹھ کر پرانی کتابوں میں کیمیا کے خاکے دیکھے۔ وہ گھنٹوں تصویروں میں کھو جاتا اور خواب دیکھتا کہ ایک دن وہ ضرور کوئی بڑا کام کرے گا۔ استاد نے کہا، "تمہارے جیسے غریب بچے بڑے خواب نہیں دیکھتے"۔ مگر اس نے یہ بات سنی ان سنی کر دی۔ مزدوری کی، لکڑیاں کاٹیں، رات کے اندھیرے میں لالٹین جلا کر پڑھا۔ تمام تر مشکلات کے باوجود اس نے پڑھائی جاری رکھی۔ پھر ایک دن اس کے ذہن میں ایک نیا سائنسی نظریہ آیا جس نے کیمیا کی دنیا بدل دی۔۔ بینزین کی ساخت کا ماڈل۔ یہ دریافت آج بھی کیمیا کی بنیادوں میں سے ایک........
