menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Malakwal Se New York Tak (5)

21 0
18.10.2026

ملکوال سے نیویارک تک (5)

ٹائمز اسکوائر کی سرخ سیڑھیوں کے بالکل ساتھ فادر ڈفی کا مجسمہ نصب ہے۔ فادر ڈفی نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران زخمی فوجیوں کی خدمت اور فلاح و بہبود کے لیے نمایاں کام کیا۔ جنگ کے بعد بھی انہوں نے نیویارک کے لوگوں کے لیے مختلف رفاہی اور سماجی خدمات انجام دیں اور اپنی سماجی خدمت کے باعث لوگوں میں بے حد مقبول ہوئے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی خدمات کے اعتراف میں یہاں ان کا مجسمہ نصب کر دیا گیا۔ بے شمار سیاح فادر ڈفی کے مجسمے کے ساتھ تصویر بنوا رہے تھے۔

اسی مجسمے کے قریب ایک اور معروف شخصیت کا مجسمہ بھی موجود ہے، جو براڈوے کے مشہور فنکار جارج ایم کوہان کا ہے۔ کوہان ایک عظیم مصنف، اداکار اور موسیقار تھے۔ اس نے متعدد مقبول گیت لکھے اور براڈوے کی دنیا میں اپنی ایک نمایاں شناخت قائم کی۔ مجھے یہ بات اچھی لگی کہ نیویارک کی گورنمنٹ نے اپنے محسنوں کے مجسمے لگا کر انہیں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ لیکن ٹائمز اسکوائر کی عالمی شہرت کی سب سے بڑی وجہ شاید نئے سال کی شام ہے۔ دنیا کے کروڑوں لوگ ہر سال 31 دسمبر کی رات اپنی نظریں ٹائمز اسکوائر پر مرکوز کرتے ہیں۔ یہاں موجود ون ٹائمز اسکوائر کی عمارت سے مشہور نیو ایئر بال کو نیچے اتارنے کی روایت 1907ء سے چلی آ رہی ہے۔ پہلی بال لوہے اور لکڑی سے بنائی گئی تھی، جس میں ایک سو بلب لگے ہوئے تھے اور اس کا وزن تقریباً سات سو پاؤنڈ تھا۔

1942ء اور 1943ء میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران نیویارک میں روشنیوں پر پابندی کے باعث بال ڈراپ کی یہ روایت معطل رہی، تاہم جنگ کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا اور آج تک جاری ہے۔ میں نے سوچا، کتنی عجیب بات ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں بیٹھے کروڑوں انسان نئے سال کے آغاز کے انتظار میں اپنی گھڑیوں پر نظریں جمائے رکھتے ہیں، مگر سال بدلنے کے ان چند لمحوں میں ان کی نگاہیں آ کر اسی جگہ پر ٹھہر جاتی ہیں اور میں، ایک عام سی دوپہر میں، اسی تاریخی مقام پر کھڑا تھا۔ میرے لیے یہ لمحہ کسی عالمی منظرنامے کا حصہ بننے سے کم نہ تھا۔

ٹائمز اسکوائر کو بجا طور پر دنیا کا چوراہا کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے تقریباً ہر خطے سے آنے والے لوگ نظر آتے ہیں۔ کسی کے ہاتھ میں کیمرہ تھا اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ تصویریں بنوا رہا تھا، کوئی اپنے دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا، کوئی براڈوے کے ٹکٹ تلاش کر رہا تھا، کوئی کسی دکان میں داخل ہو کر خریداری کر رہا تھا اور کوئی میری طرح صرف اس حیرت انگیز منظر کو اپنی آنکھوں میں محفوظ کر رہا تھا۔ مجھے اس ہجوم میں مختلف رنگ، مختلف لباس، مختلف زبانیں اور مختلف تہذیبیں دکھائی دے رہی تھیں۔ میں نے محسوس کیا کہ انسان خواہ پاکستان سے آیا ہو، ایشیا کے کسی ملک سے، یورپ سے، عرب دنیا سے یا دنیا کے کسی دور دراز خطے سے، ٹائمز اسکوائر آ کر چند لمحوں کے لیے ایک ہی عالمی منظر کا حصہ بن جاتا ہے۔ شاید یہی نیویارک کی سب سے بڑی طاقت ہے اور شاید اسی لیے اسے دنیا کا چوراہا کہا جاتا ہے۔

میں پاکستان کے نسبتاً چھوٹے شہر ملکوال سے اپنا سفر شروع کرکے دنیا کے اس مشہور شہر تک پہنچا تھا۔ یہ احساس میرے لیے بہت گہرا تھا۔ اس لمحے مجھے اپنے وطن کی گلیاں، اپنے شہر کے لوگ، اپنے دوست اور ساتھی اور اپنے سفر کے پچھلے تمام مراحل یاد آ رہے تھے۔ ایک عجیب سا احساس تھا کہ انسان جتنا آگے بڑھتا جاتا ہے، اتنا ہی اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی دنیا کو بھی اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے۔ میں نے سوچا کہ زندگی بھی شاید ایک سفر ہی ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی منزلوں سے گزرتے ہوئے بڑے خوابوں تک........

© Daily Urdu (Blogs)