menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Malakwal Se New York Tak (2)

36 0
27.09.2026

ملکوال سے نیویارک تک (2)

فروری 2023ء میں جب مجھے معلوم ہوا کہ علی عباس صاحب چار ممالک، سری لنکا، ملائیشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ، کا ایک گروپ ٹور لے کر جا رہے ہیں تو میں نے زیادہ سوچ بچار کے بغیر ان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ ان چار ممالک کا سفر میرے لیے ایسا تجربہ ثابت ہوا جس نے دنیا کو مزید دیکھنے اور سمجھنے کی خواہش کو میرے اندر اور گہرا کر دیا۔ اس وقت تک میں ایک بات اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ سفر صرف نئے مقامات دیکھنے کا نام نہیں۔ یہ اس سے کہیں بڑھ کر انسان کو دوسری اقوام کی عادات، تہذیب و ثقافت، نظم و ضبط اور طرزِ زندگی کو سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ سفر انسان کے اندر برداشت اور وسعتِ نظر پیدا کرتا ہے اور اسے اس سوال پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ آخر زندگی کس مقصد کے ساتھ گزارنی چاہیے۔

جب انسان اپنی روزمرہ کی محدود روٹین سے باہر نکل کر دنیا کو دیکھتا ہے تو اس کے اندر بہت سی تبدیلیاں خود بخود جنم لینے لگتی ہیں۔ شاید آپ نے بھی یہ مشاہدہ کیا ہو کہ ہمارے بہت سے لوگ جب یورپ یا کسی دوسرے ترقی یافتہ ملک میں جاتے ہیں اور کچھ عرصہ وہاں گزارتے ہیں تو واپسی پر وہ پہلے جیسے نہیں رہتے۔ ان کے رویوں، سوچ اور طرزِ زندگی میں ان معاشروں کی بہت سی مثبت باتوں کا رنگ نمایاں ہونے لگتا ہے۔ میرے نزدیک سفر کی اصل خوبصورتی بھی یہی ہے۔ جب آپ دنیا کو باہر سے دیکھتے ہیں تو دراصل آپ اپنے اندر بھی جھانکنا شروع کر دیتے ہیں۔ دوسروں کے معاشروں میں نظم و ضبط، صفائی، وقت کی پابندی، قانون پسندی، شائستگی اور باہمی احترام کو دیکھ کر انسان کو اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا احساس ہوتا ہے اور ایک سمجھدار انسان کی خوبی یہی ہے کہ وہ اپنی خامیوں کو پہچاننے کے بعد انہیں دور کرنے کی کوشش کرے۔

ان چار ممالک کے سفر کے دوران بھی میں نے اپنے تجربات اور مشاہدات کو کالمز اور بلاگز کی صورت میں قلم بند کیا اور کالمز پر مشتمل کتاب "گزرے دنوں کی یاد" لکھنا شروع کر دی۔ سفر ختم ہوا اور جب میں ان ممالک کی یادیں دل میں لیے واپس پاکستان آ رہا تھا تو دورانِ پرواز علی عباس صاحب نے مجھ سے ایک ایسی بات کہی جو میرے لیے ہمیشہ یادگار رہے گی۔ انہوں نے کہا: "آپ کی نئی کتاب گزرے دنوں کی یاد، کی تقریبِ رونمائی ہم قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن میں رکھیں گے، بالکل اسی جگہ جہاں آپ کی پہلی کتاب کی تقریبِ رونمائی ہوئی تھی"۔

ان کے یہ الفاظ میرے لیے خوشی اور حوصلے کا باعث تھے۔ پھر ایسا ہی ہوا۔ تقریباً دو ماہ بعد جب میری کتاب "گزرے دنوں کی یاد" منظرِ عام پر آئی تو علی عباس صاحب نے قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن میں اس کی تقریبِ رونمائی کا اہتمام کیا۔ میں ان کی اس محبت، حوصلہ افزائی اور خلوص کو اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتا ہوں اور آج بھی اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ جولائی 2023 میں میں نے آذربائجان کا سفر کیا اور اپریل 2025 میں انگلینڈ کا۔ ان تمام اسفار کے بعد میرے دل و دماغ میں ایک بات پوری طرح واضح ہو چکی تھی کہ زندگی میں کوئی بھی خواب پورا کرنے کے لیے صرف وسائل کافی نہیں ہوتے، سب سے پہلے ایک سچی تڑپ چاہیے ہوتی ہے۔

جب انسان کسی مقصد کے لیے دل کی گہرائیوں سے کوشش کرتا ہے، اخلاص کے ساتھ قدم اٹھاتا ہے اور ہمت نہیں ہارتا تو راستے آہستہ آہستہ خود بننے لگتے ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ شاید یہی وہ کیفیت ہے جسے ہم Law of Attraction کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ جب آپ کسی مقصد کو سچے دل سے چاہیں، اس کے لیے مسلسل کوشش کریں اور یقین کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں........

© Daily Urdu (Blogs)