Main Akela He Chala Tha Janib e Manzil
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل
بعض کتابیں محض کاغذ پر ثبت الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں، وہ کسی شخصیت کے سفر، جدوجہد، فکر اور اثرات کی ایسی دستاویز بن جاتی ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے قاری صرف ایک کتاب نہیں پڑھتا بلکہ ایک پورا عہد اپنی آنکھوں کے سامنے چلتا پھرتا محسوس کرتا ہے۔ "میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل" بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے، جو معروف استاد، دانش ور، تربیت کار اور صاحبِ فکر شخصیت قاسم علی شاہ کے سفرِ زندگی اور ان کے فکری و انسانی اثرات کو ایک سو گیارہ نامور شخصیات کی نظر سے پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کی تقریبِ رونمائی 21 اگست 2026ء، بروز جمعۃ المبارک، فیصل آباد کے خوبصورت نیچرل ریزورٹ اینڈ کلب میں منعقد ہوئی۔ شام پانچ بجے شروع ہونے والی یہ تقریب تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی اور سات بجے اختتام پذیر ہوئی۔ تقریب کی صدارت ریٹائرڈ آئی جی جناب طاہر انوار پاشا نے کی جبکہ میزبانی کے فرائض محترمہ ڈاکٹر عائشہ عظیم نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
یہ محض ایک کتاب کی رونمائی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی شخصیت کے سفر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی محفل تھی، جس نے اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کی زندگیوں میں روشنی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہال میں موجود مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات، ان کے تاثرات اور قاسم علی شاہ سے وابستہ یادیں اس بات کی گواہی دے رہی تھیں کہ ایک انسان جب خلوص کے ساتھ دوسروں کی زندگی میں مثبت کردار ادا کرتا ہے تو اس کی ذات رفتہ رفتہ ایک فرد سے بڑھ کر ایک ادارے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ کتاب "میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل" کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ اس میں قاسم علی شاہ صاحب نے خود اپنی داستان نہیں سنائی بلکہ ایک سو گیارہ لوگوں نے کس انداز سے شاہ صاحب کو دیکھا، وہ اس میں تحریر ہے۔
کسی نے ان میں ایک استاد دیکھا، کسی نے رہنما، کسی نے دوست، کسی نے روحانی شخصیت، کسی نے مربی اور کسی نے ایسا انسان جو دوسروں کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچاننے اور انہیں آگے بڑھانے کا ہنر رکھتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کتاب میں ایک ہی شخصیت کے ایک سو گیارہ عکس موجود ہیں۔ ہر عکس الگ، ہر زاویہ منفرد، مگر مجموعی تصویر ایک ہی، ایک ایسے انسان کی جس نے اپنے سفر میں بہت سے لوگوں کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی اور بہت سے لوگوں کو ان کی اپنی منزل کا راستہ دکھایا۔
تقریب کے پہلے مقرر جناب زاہد قوی تھے۔ ان کی گفتگو اس تقریب کے ان خوبصورت پہلوؤں میں سے تھی جہاں انسان اپنی رائے کی تبدیلی کا اعتراف بھی کرتا ہے اور کسی شخصیت کے اثر کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں انہوں نے قاسم علی شاہ کو بیجا تنقید کا نشانہ بنایا۔ مگر جب بالمشافہ ملاقات ہوئی، انہیں قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا تو ان کی رائے بدل گئی۔ وہ قاسم علی شاہ کی شخصیت کے سحر اور کشش سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ یہی ملاقات بعد ازاں ایک ایسی رفاقت میں تبدیل ہوئی جس نے انہیں "تعلیم ممکن" پروگرام کے مشن کا حصہ بنا دیا۔
ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور مصنف جناب عبدالغفور چودھری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے قاسم علی شاہ کے ساتھ ملاقات کے بعد جو تاثر قائم کیا، وہ تھا........
