menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zindagi Dobara Nahi Milti

27 0
28.10.2026

زندگی دوبارہ نہیں ملتی

زندگی کی سب سے عجیب حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنی بہت سی غلطیوں کا احساس اُس وقت ہوتا ہے جب اُنہیں درست کرنے کی مہلت باقی نہیں رہتی۔ وقت گزرتا ہے، حالات بدلتے ہیں، فیصلوں کے نتائج سامنے آتے ہیں اور پھر دل کے کسی گوشے سے ایک چھوٹا سا لفظ اُبھرتا ہے۔۔ کاش! کاش میں نے اُس وقت رک کر سوچا ہوتا، کاش میں نے والدین کی نصیحت کو معمولی نہ سمجھا ہوتا، کاش میں نے صحت کو نظرانداز نہ کیا ہوتا، کاش میں نے اُس موقع کو ضائع نہ کیا ہوتا، کاش میں نے اُس شخص کو اپنا رازدار اور دوست نہ بنایا ہوتا۔ انسان غلطی کے بعد بھی خود کو بدلنے کے بجائے صرف اس کے انجام پر ماتم کرتا رہتا ہے۔

دنیا میں پچھتاوا اگرچہ تکلیف دہ ہے، مگر اس میں ایک نعمت بھی چھپی ہوئی ہے۔۔ اصلاح کی گنجائش۔ جو شخص آج اپنی کوتاہی کو پہچان لیتا ہے، وہ کل کا راستہ بدل سکتا ہے۔ ایک خراب تعلق ختم کیا جا سکتا ہے، غلط عادت چھوڑی جا سکتی ہے، صحت کی طرف دوبارہ توجہ دی جا سکتی ہے، علم حاصل کیا جا سکتا ہے، کسی سے معافی مانگی جا سکتی ہے اور برسوں سے بگڑی ہوئی زندگی کو نئے نظم کے ساتھ دوبارہ ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ انسان کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ جب تک سانس باقی ہے، واپسی کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوتا۔ مگر ہم عجیب مخلوق ہیں۔۔ زندگی بارہا ہمیں پلٹنے کا موقع دیتی ہے، مگر ہم غفلت میں اسے گنوا دیتے ہیں، پھر واپسی کی راہیں تلاش کرتے رہتے ہیں۔

قرآن مجید انسان کو اسی حقیقت کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب عمل کی مہلت ختم ہو جائے گی اور صرف اعمال کے نتائج سامنے ہوں گے۔ وہاں حسرت ہوگی، اعتراف ہوگا، خواہش ہوگی کہ کاش دنیا کی زندگی میں کچھ اور کیا ہوتا، مگر وقت واپس نہیں آئے گا۔........

© Daily Urdu (Blogs)