menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Waham Ki Zanjeer Kab Toote Gi?

12 0
latest

وہم کی زنجیر کب ٹوٹے گی؟

بچپن انسان کی زندگی کا وہ موسم ہے جس میں ذہن نرم مٹی کی طرح ہوتا ہے۔ اس پر جو نقش ثبت ہو جائیں، وقت گزرنے کے باوجود پوری طرح مٹتے نہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب بچہ دنیا کو پہلی مرتبہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، چیزوں کے درمیان رشتے تلاش کرتا ہے، سوال پوچھتا ہے اور ہر جواب کو اپنے ذہن کی عمارت میں ایک اینٹ کی طرح رکھتا چلا جاتا ہے۔ مگر ہم نے اس معصوم ذہن کو علم، دلیل اور تجسس دینے کے بجائے اکثر خوف، وہم اور اندیشے کیوں دیے؟ ہم نے اسے یہ سمجھانے کے بجائے کہ دنیا کو سمجھو، یہ کیوں سکھایا کہ دنیا سے ڈرو؟"چھت پر اکیلے مت جانا، گر جاؤ گے۔ رات کو باہر مت نکلنا، کچھ ہو جائے گا۔ فلاں جگہ مت جانا، وہاں مصیبت ہے۔ ایسا کیا تو نقصان ہو جائے گا۔ یہ مت کرو، ہمارے بڑوں نے بھی منع کیا تھا"۔ ان جملوں میں سے بعض کے پیچھے یقیناً احتیاط اور تجربے کی کوئی معقول وجہ ہوسکتی ہے۔ بچے کو خطرے سے آگاہ کرنا تربیت کا حصہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر ممانعت کے پیچھے کوئی دلیل بھی ہے؟ اور اگر دلیل نہیں تو ہم احتیاط سکھا رہے ہیں یا خوف منتقل کر رہے ہیں؟

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے کئی نسلوں سے "کیوں؟" کا جواب "بس، ایسا ہی ہوتا ہے" سے دینا سیکھ لیا ہے۔ بچہ پوچھتا ہے، "میں چھت پر کیوں نہ جاؤں؟" جواب ملتا ہے، "ہمیں بھی ہمارے بڑوں نے منع کیا تھا"۔ وہ پھر پوچھتا ہے، "لیکن کیوں؟" تو شاید ایک نظر گھور کر اسے خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ یوں سوال مر جاتا ہے اور ایک نیا خوف جنم لے لیتا ہے۔ یہاں سے ایک عجیب وراثت شروع ہوتی ہے۔ ایک نسل نے جو خوف بغیر دلیل کے قبول کیا، اگلی نسل کو دے دیا۔ اگلی نے اسے حقیقت سمجھا اور اپنی اولاد کے حوالے کردیا۔ کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ جس بات کو ہم صدیوں سے سچ سمجھتے آرہے ہیں، وہ واقعی سچ بھی ہے یا محض ایک پرانا وہم؟ کیا ہر پرانی بات قابلِ احترام ہے صرف اس لیے کہ وہ پرانی ہے؟ روایت اور توہم میں فرق ہوتا ہے۔........

© Daily Urdu (Blogs)