menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Thokarein Rasta Dikhati Hain

16 0
friday

ٹھوکریں راستہ دکھاتی ہیں

کبھی کبھی زندگی انسان کو وہاں لا کھڑا کرتی ہے جہاں اس کے پاس شکایت کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے، مگر جواب کے لیے کچھ نہیں۔ اچانک بیماری، مالی تنگی، کسی رشتے میں تلخی، کاروبار میں نقصان یا کوئی ایسا حادثہ جس کے بعد زندگی پہلے جیسی محسوس نہ ہو۔ ایسے لمحوں میں ہماری پہلی نظر باہر اٹھتی ہے۔۔ حالات، لوگوں، زمانے اور قسمت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ لیکن وحی کا پیغام انسان کو ایک زیادہ مشکل مگر زیادہ مفید راستہ دکھاتا ہے۔۔ اپنے اندر جھانکنے کا راستہ۔ سورہ الشوریٰ کی آیت 30 انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ مصیبت محض ایک حادثہ نہیں، اس میں انسان کے اعمال اور اس کی کوتاہیوں کے لیے ایک آئینہ بھی چھپا ہو سکتا ہے، اگرچہ اللہ تعالیٰ بہت سی لغزشوں سے درگزر بھی فرماتا ہے۔

یہاں ایک نہایت اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہر مصیبت کو کسی شخص کے گناہ کی قطعی سزا قرار دینا نہ درست ہے اور نہ انسانی علم کے دائرے میں۔ بیماری ہمیشہ بداعمالی کا نتیجہ نہیں ہوتی، غربت ہمیشہ کردار کی خرابی کا ثبوت نہیں اور حادثہ ہمیشہ کسی گناہ کی سزا نہیں ہوتا۔ زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے اور ان کی حقیقت ہر انسان کے لیے یکساں نہیں ہوتی۔ اصل سبق شاید یہ ہے کہ مصیبت جب بھی آئے، انسان اسے اپنی ذات کے محاسبے کا موقع ضرور بنائے۔ اگر دکھ ہمیں بہتر انسان نہیں بناتا تو ہم نے اس دکھ سے وہ سبق حاصل نہیں کیا جو حاصل کیا جا سکتا تھا۔

ہم میں سے اکثر لوگ حالات بدلنے کی دعا کرتے ہیں، مگر اپنے رویے بدلنے کی کوشش کم کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ گھر میں سکون ہو، مگر اپنی زبان کی سختی پر غور نہیں کرتے۔ دفتر میں لوگ ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ کریں، مگر ہم دوسروں کی عزتِ نفس کو کتنی اہمیت........

© Daily Urdu (Blogs)