menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Social Media Ka Belagam Safar

33 0
11.10.2026

سوشل میڈیا کا بے لگام سفر

سوشل میڈیا نے انسان کو اظہار کی وہ آزادی دی ہے جس کا تصور کبھی صرف کتابوں اور خوابوں میں ممکن تھا، مگر عجیب بات یہ ہے کہ آزادی بڑھتی گئی اور ذمہ داری سکڑتی گئی۔ آج ایک موبائل فون کیمرہ بھی ہے، اخبار بھی، اسٹیج بھی، بازار بھی اور عدالت بھی۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو انسان کو ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتی ہے، کیا اتنی بڑی رسائی کے ساتھ اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہماری زندگی کا حصہ بنی ہے؟ ہم نے اظہار کا حق تو مانگ لیا، لیکن اظہار کے اثرات کا حساب دینا شاید ابھی نہیں سیکھا۔

حالیہ دنوں میں ایک معروف پاکستانی ٹک ٹاکرکے قتل کی خبر نے ایک بار پھر سوشل میڈیا کے استعمال، آن لائن تعلقات اور ہماری اجتماعی سوچ پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کسی انسان کی جان لے لینا بہرحال ایک سنگین جرم ہے۔ اختلاف، پسند ناپسند، لباس، طرزِ گفتگو، شہرت یا سوشل میڈیا کی سرگرمی کسی کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ دوسرے کی زندگی ختم کر دے۔ قتل کا جواز تلاش کرنا دراصل جرم کے ہاتھ میں اخلاقی چھتری تھما دینا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہےکہ کیا کسی سانحے کے بعد صرف قاتل کو دیکھنا کافی ہے، یا ہمیں ان حالات کو بھی سمجھنا چاہیے جو ایسے واقعات کے لیے زمین ہموار کرتے ہیں؟

یہاں ایک نہایت باریک فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی مقتول کو اس کے قتل کا ذمہ دار قرار دینا اور معاشرے کو خطرات سے آگاہ کرنا ایک ہی بات نہیں۔ اگر کوئی شخص غلطی کرتا ہے تو اس غلطی کی نشاندہی کی جا سکتی ہے، مگر اس بنیاد پر اس کے خلاف ہونے والے ظلم کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہمیں یہ فرق سیکھنا ہوگا، کیونکہ آج کل ہم اکثر اخلاقی تنقید اور کردار کشی کو ایک ہی ترازو میں تولنے لگتے ہیں۔ کسی خاتون یا مرد کا سوشل میڈیا پر نامناسب مواد پیش کرنا قابلِ بحث ہو سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے خلاف تشدد، دھمکی یا........

© Daily Urdu (Blogs)