menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bache Hamare Ehad Ke

28 0
30.06.2026

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے گھروں کی دیواروں، تعلیمی اداروں کی راہداریوں اور معاشرے کی گلیوں میں ایک ان دیکھی جنگ برپا ہے، جو انسان کے اندر کے سکون کو شکست دے رہی ہے۔ اس جنگ میں نہ توپیں چلتی ہیں، نہ بارود جلتا ہے، نہ کوئی لشکر سرحدوں پر صف آرا ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود اس کے زخم گہرے اور اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ ایک طرف وہ نسل کھڑی ہے جس نے زندگی کو صبر، روایت اور تجربے کی آنکھ سے دیکھا اور دوسری طرف وہ نسل ہے جس نے دنیا کو موبائل اسکرین سے پہچانا۔ ایک نسل کے ہاتھ میں ماضی کا چراغ ہے اور دوسری نسل کے ہاتھ میں مستقبل کی ٹارچ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دونوں میں سے کون درست ہے۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی روشنی کو اپنی آنکھوں کے لیے خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ہر نسل اپنے وقت کا عکس ہوتی ہے۔ انسان اپنے دور سے الگ ہو کر نہیں سوچ سکتا۔ جس طرح صحراؤں میں رہنے والے لوگوں کے خواب اور ہوتے ہیں اور سمندروں کے کنارے بسنے والوں کے خواب اور، اسی طرح ہر زمانے کی نسل اپنے ماحول، ذرائع اور تجربات کے مطابق تشکیل پاتی ہے۔ جین زی بھی اسی اصول کا تسلسل ہے۔ یہ وہ نسل ہے جس نے آنکھ کھولتے ہی انٹرنیٹ کو سانس لیتے دیکھا، معلومات کو انگلیوں پر ناچتے دیکھا اور دنیا کو سکڑ کر ایک اسکرین میں سمٹتے دیکھا۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ معلومات کے اس سمندر میں تیرنے والی نسل شاید اپنی تاریخ کی سب سے زیادہ پیاسی نسل بھی ہے۔ ان کے پاس جواب بہت ہیں مگر سکون کم ہے۔ معلومات بہت ہیں مگر حکمت کم ہے۔ رابطے بہت ہیں مگر تعلقات کمزور ہیں۔ وہ ہر وقت لوگوں کے درمیان موجود ہیں، مگر اپنے اندر ایک ویرانی لیے پھرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ معلومات اور شعور ایک چیز نہیں ہوتے۔ گوگل انسان کو معلومات دے سکتا ہے، دانائی نہیں۔ یوٹیوب راستے دکھا سکتا ہے، منزل نہیں۔ مصنوعی ذہانت سوالوں کے جواب دے سکتی ہے، مگر زندگی کے المیوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں اٹھا سکتی۔ یہی وہ خلا ہے جہاں جین زی اکثر الجھن کا شکار نظر آتی ہے۔ انہیں ہر موضوع پر رائے تو مل جاتی ہے مگر یہ سمجھ نہیں آتا کہ ان میں سے سچ کون سا ہے۔

انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک نوجوان........

© Daily Urdu (Blogs)