menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pakistan Mein Jamhuriat Ya Jamhoor Ko Dhoka?

21 0
yesterday

پاکستان میں جمہوریت یا جمہور کو دھوکہ؟

کسی بھی سیاسی نظام پر سب سے سنگین الزام یہ نہیں ہوتا کہ وہ آمریت ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو جمہوریت کہے مگر عوام کو حقیقی اختیار نہ دے۔ آمریت کم از کم اپنی اصل شکل میں سامنے آتی ہے، جبکہ ایک جعلی جمہوریت عوام کو یہ یقین دلاتی ہے کہ اقتدار ان کے ہاتھ میں ہے، حالانکہ اصل فیصلے کہیں اور ہو رہے ہوتے ہیں۔

پاکستان کے بارے میں سوال یہ نہیں کہ یہاں انتخابات ہوتے ہیں یا نہیں، پارلیمان موجود ہے یا نہیں، یا آئین میں جمہوری دفعات لکھی ہوئی ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام واقعی حکمرانی کے عمل پر اثرانداز ہوتے ہیں، یا وہ صرف ایک ایسے سیاسی ڈرامے کے کردار ہیں جس کا اسکرپٹ کہیں اور لکھا جاتا ہے؟

قدیم یونانی فلسفی افلاطون Plato نے جمہوریت پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ عوامی حکومت اکثر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے جو عوامی جذبات کو بھڑکانے اور رائے عامہ کو متاثر کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ عوام کو لگتا ہے کہ وہ فیصلے کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی سوچ اور ترجیحات دوسروں کے بنائے ہوئے بیانیوں کے تابع ہوتی ہیں۔ اگر سیاست عوامی شعور کے بجائے میڈیا مینجمنٹ، پروپیگنڈا اور بیانیہ سازی کا کھیل بن جائے تو افلاطون کی تنبیہ بے حد اہم ہو جاتی ہے۔

انیسویں صدی کے فرانسیسی مفکر الیکسس ڈی ٹوکویل Tocqueville نے جمہوری معاشروں میں ایک اور خطرے کی نشاندہی کی تھی۔ ان کے مطابق شہری آہستہ آہستہ سیاسی عمل سے لاتعلق ہو جاتے ہیں اور تمام........

© Daily Urdu (Blogs)