Pakistan Ke Liye Hum Kya Kar Sakte Hain?
پاکستان کیلیۓ ہم کیا کر سکتے ہیں؟
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کامیابی کبھی آسان راستوں کا انعام نہیں ہوتی۔ ترقی، خوشحالی اور عظمت ہمیشہ ان لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو مشکلات کا جرأتمندی سے مقابلہ کرتے ہیں، ناموافق حالات سے گھبرانے کے بجائے ان سے سیکھتے ہیں اور رکاوٹوں کو اپنی ترقی کا زینہ بنا لیتے ہیں۔ زندگی کا اصول یہ ہے کہ جو قومیں اور افراد مشکلات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں، وہ تاریخ کے حاشیوں میں گم ہو جاتے ہیں، جبکہ وہ لوگ جو مصیبتوں کے باوجود اپنا سفر جاری رکھتے ہیں، وہی اپنی منزل پاتے ہیں۔
ایک قدیم مغربی کہاوت ہے: "God helps those who help themselves" یعنی "خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں"۔ یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ کامیابی کا ایک آفاقی اصول ہے۔ قدرت نے انسان کو عقل، ارادہ اور عمل کی قوت عطا کی ہے۔ جو شخص اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے، جدوجہد کرتا ہے اور حالات کے بدلنے کا انتظار کرنے کے بجائے خود تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے، کامیابی بالآخر اس کے قدم چومتی ہے۔
مشہور یونانی فلسفی ارسطو نے کہا تھا: "ہم وہی بنتے ہیں جو بار بار کرتے ہیں، اس لیے فضیلت کوئی عمل نہیں بلکہ ایک عادت ہے"۔ اس قول میں زندگی کا ایک عظیم راز پوشیدہ ہے۔ قوموں کی ترقی بھی چند وقتی نعروں یا جذباتی فیصلوں سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، نظم و ضبط اور اچھے رویوں سے........
