Jab Qaum Sawal Karna Chor De
جب قوم سوال کرنا چھوڑ دے
میں نے اپنی اس طویل زندگی میں حکومتیں بدلتے دیکھی ہیں، نظام بدلتے دیکھے ہیں، چہرے بدلتے دیکھے ہیں۔ مگر ایک چیز کم ہی بدلی: اقتدار ہمیشہ چند ہاتھوں میں رہا اور اکثریت نے اسے تقدیر سمجھ کر قبول کر لیا۔
وقت نے مجھے یہ بھی سکھایا کہ قومیں صرف طاقت کے زور پر محکوم نہیں بنتیں، بلکہ اس وقت جب وہ سوال کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔
ہم یہ مان کر مطمئن رہتے ہیں کہ ہم پر حکومت وہی کرتے ہیں جنہیں ہم نے چنا، یا جنہوں نے اپنی قابلیت سے یہ مقام حاصل کیا۔ لیکن عمر بھر کا تجربہ، زندگی اور تاریخ کے اوراق ایک اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اقتدار اکثر اُن راستوں سے منتقل ہوتا ہے جن میں عام آدمی کی نہ تو کوئی رائے شامل ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی کوئی حیثیت۔
سوال یہ نہیں کہ ایسا ہوتا ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اسے اتنی آسانی سے قبول کیوں کر لیتے ہیں۔
میں نے زمانے بدلتے دیکھے ہیں۔ حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی دیکھی ہیں۔ چہرے بدلتے رہے، نعرے بدلتے رہے، پر ایک چیز کبھی نہیں بدلی: اقتدار ہمیشہ چند ہاتھوں میں گھومتا رہا اور باقی لوگ ہر نئے منظر کے........
